وزیراعظم نے نوٹس لے لیا، چیئرمین سینٹ، سپیکر سے تنخواہوں میں اضافے کی رپورٹ طلب
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم نے سپیکر، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے سپیکر اور چیئرمین سینٹ سے رپورٹ طلب کر لی۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم سپیکر اور چیئرمین کی تنخواہوں میں اضافے پر فیصلہ کریں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کی تنخواہ میں 600 فیصد سے زائد اضافہ کر دیا گیا تھا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سینٹ کے چیئرمین اور قومی اسمبلی کے سپیکر کی تنخواہیں 2 لاکھ 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 13 لاکھ روپے کر دی گئی ہیں، اس کے علاوہ نئی تنخواہ کا 50 فیصد (یعنی 6 لاکھ 50 ہزار روپے) بطور تفریحی الاؤنس دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چیئرمین سینٹ اور چیئرمین
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔