WE News:
2026-06-03@05:21:07 GMT

بھینس کا یار لیڈر

اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT

صدیوں پرانا ویتنام تھا۔ جہاں بھینسوں کے ریوڑ تھے۔ قدرتی چاول اگتا تھا۔ سیلاب آتے تھے یا قحط پڑتے تھے۔ محل میں سناٹا تھا۔ ریاستی اداروں کے سارے بڑے سانس روک کر بیٹھے تھے۔ یہ سب ایک ہال میں جمع تھے۔ سب کی نظریں گرو پر تھیں کہ وہ کب حرکت کرتا ہے۔ گرو نے حاضرین کو دیکھا، اپنا رخ ایک دیوار کی طرف کر کے دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔

دیوار پر ایک فلم چلنی شروع ہو گئی۔ بھینسوں کا ایک بہت بڑا ریوڑ دریا کنارے چر رہا تھا۔ راہبوں کا ایک گروپ لکڑی کا پل پار کر رہا تھا۔ راہب پل کے درمیان پہنچے تو رک گئے۔

دراصل آگے چلنے والا ایک نوجوان راہب ٹھہرا تھا۔ اس کی نظریں نہ چاہتے ہوئے بھی ایک منظر پر رک گئی تھیں۔ اسے سینکڑوں چرتی ہوئی بھینسوں میں ایک سنڈا دکھائی دے گیا تھا ۔ جو سکون سے ایک بھینس پر سوار تھا۔ بھینس اپنے سوار سے بے نیاز گھاس چر رہی تھی۔

بہت سے نوجوان راہب یہ سین دیکھ کر اپنے نفس کو قابو کرنے کی ساری مشق بھول کر مسکرانے لگ گئے تھے۔ اس نظارے میں کھوئے انہیں اندازہ تک نہیں ہو سکا تھا کہ کب پل ٹوٹا کب وہ سارے دریا کی لہروں کی نذر ہو گئے۔ یہ پل خود بخود نہیں ٹوٹا تھا۔ اس پل کو ایک درمیانی عمر کے راہب نے توڑا تھا۔

دیوار پر چلنے والے اگلے منظر میں یہی پل توڑنے والا راہب ایک بہت بوڑھے راہب کو ایک پہاڑی سے دھکا دیتا دکھائی دیتا ہے۔ تیسرے اور آخری منظر میں یہ قاتل راہب ایک مذہبی رسم میں سینکڑوں راہبوں کا سربراہ منتخب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: معیشت کی دنیا بدل چکی، پاکستانی سیاست ابھی پرانی ہے

گرو اعلان کرتا ہے کہ تمھارے پاس ایک آپشن یہ راہب ہے۔ اس نے تمام مخالفوں کو راستے سے ہٹا کر راہبوں کی قیادت سنبھال لی ہے۔ اس دوران دیوار پر مختلف مناظر دکھائی دیتے رہتے ہیں۔ جن میں وہ راہب اپنے مخالفوں کو راستے سے ہٹاتا دکھائی دیتا ہے۔ ان سارے مناظر میں اکثر بھینسوں کے ریوڑ ہوتے ہیں۔ جن میں ایک سنڈا ضرور دکھائی دیتا ہے جو کسی بھینس پر سوار ہے۔

گرو ایک وقفہ کرتا ہے بس اتنا جس میں وہ حاضرین پر ایک نظر ڈالتا ہے۔ دوبارہ دیوار کی جانب رخ کر کے ہاتھ اٹھا دیتا ہے۔ دیوار پر ایک نیا منظر چلنے لگتا ہے۔ ایک جنگ کا منظر ہے۔ بھینسوں کا ایک بہت بڑا ریوڑ ہے۔ ایک بے ترتیب سی فوج حملہ آور ہے۔ شروع میں سمجھ نہیں آتی کہ کیا ہو رہا۔
منظر آگے چلتا ہے تو واضح ہو جاتا ہے۔ ایک چھوٹے سے قبیلے پر ایک فوج حملہ آور ہے۔ قبیلہ چھوٹا ہے ان کے پاس بھینسوں کا گلہ بہت بڑا ہے۔ اب وہ نہ اپنی حفاظت کر پا رہے نہ اپنے گلے کی۔ ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں۔ خون بہہ رہا ہے جانور اور انسان مارے جا رہے ہیں۔ اس جاری جنگ میں جب ریوڑ بے چینی سے بھاگا پھر رہا ہے۔ ایسے میں ایک سنڈا پھر اک بھینس پر سوار دکھائی دیتا ہے۔

منظر بدلتا ہے فاتح لشکر کا سردار 2 لڑکیوں کو گھسیٹتا ہوا سائے کی طرف لے جا رہا ہوتا ہے۔ گرو حاضرین کی طرف مڑے بغیر بولتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تمھارے پاس ایک آپشن اس لشکر کا سردار ہے۔ لوگ جان لیتے ہیں کہ وہی سردار ہے جو 2 لڑکیوں کو گھسیٹتے ہوئے لے جاتا دکھائی دیا تھا۔ اس سردار نے اپنے سارے مخالفین مار مکائے ہیں یا انہیں ساتھ ملا لیا ہے۔ اب اسی کا سکہ چلتا ہے ایک بڑے علاقے پر۔

حاضرین میں اک ہلکی سی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ وہ شروع ہوتے ہی دم توڑ دیتی ہے کہ دیوار پر سین بدل گیا ہے۔ ایک باپ اپنے بیٹے کو رخصت کر رہا ہے۔ 4 بھینسوں کے ساتھ۔ اس کی بیوی بھی رو رہی ہے۔ وہ اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ یہ چھوٹا ہے اس لمبے سفر پر یہ کیسے اکیلا جائے گا۔

باپ کہتا ہے یہ اس سفر پر نہیں نکلے گا تو کیسے سیکھے گا۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس میں دو ہی موسم ہیں۔ ایک قحط کا، ایک سیلاب کا۔ ہم اپنے گھر بانسوں پر زمین سے اونچے بناتے ہیں۔ اس لیے کہ سیلاب آئیں تو ان سے محفوظ رہیں۔ ہم تو بچ جائیں گے۔ زندہ رہیں گے سیلاب مچھلیاں بھی لایا ہے۔ وہ کھا لیں گے۔

ان 4 بھینسوں کے کھانے کو کچھ نہیں بچا۔ پانی آ گیا ہے یہ جانور اب بھوکے مر جائیں گے۔ ہمارے بیٹے کو جانا ہو گا اپنی بھینسوں کو لے کر گھاس کے میدانوں میں۔ یہ تب ہی بچ سکیں گی۔

تم اسے جانے دو۔ یہ سفر پر نکلے گا تو جانے گا کہ دنیا کیسی ہے۔ اس کا وطن کیسا ہے یہاں لوگ کیسے ہیں۔ یہاں جانور کون سے ہیں۔ یہ جانے گا کہ راتوں کو اس سے جانور چھیننے ڈاکو آئیں گے۔ یہ دیکھے گا شیر اکیلے اور بھیڑیے اکٹھے اس پر حملہ کریں گے۔

یہ اس سفر میں جانے گا کہ حالات سے مقابلہ کیسے کرتے ہیں۔ اسے نئے لوگ ملیں گے جو اس کی طرح اپنے ڈنگر چرانے گھاس کے میدانوں کی تلاش میں جا رہے ہوں گے۔ نئے لوگ اس کے دوست بنیں گے۔ یہ مل کر حملہ آوروں کا مقابلہ کریں گے۔

مزید پڑھیے: خیبر پختونخوا حکومت بدلنی ہے یا گھسیٹنی ہے؟

یہ وقت کے ساتھ جان جائے گا کہ ہر گھاس کھانے کی نہیں ہوتی، کچھ زہریلی بھی ہوتی ہیں۔ اسے پتا لگے گا کہ کون سی گھاس کھا کر اس کی بھینس زیادہ دودھ دے گی۔ یہ اک دن لوٹ آئے گا شاید اکیلا شاید بہت سے جانوروں کے ساتھ۔

آخری منظر میں یہ لڑکا واپس لوٹ کر آتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک بہت بڑے قافلے کے ساتھ ہزاروں ڈنگروں کے ساتھ۔ اپنے چہرے پر کامیابی کی چمک لیے۔ یہ ایسے آتا ہے کہ ایک حکمران لگتا ہے۔اس کے پیچھے لوگ تو ہیں ہی۔ ہزاروں بھینسوں کا ایک بڑا ریوڑ بھی ہے۔ اس ریوڑ میں ایک بھینسا سب کچھ سے بے پروا مزے سے ایک بھینس پر سوار آ رہا ہے۔

گرو ہاتھ چھوڑ کر حاضرین کی طرف پلٹ آتا ہے۔ دیوار پر منظر رک جاتے ہیں۔ میرے بچو ان تینوں میں سے کسی کو بھی اپنی ریاست کا نیا حکمران منتخب کر سکتے ہو یہ سارے ٹھیک ہیں۔ تم جس پر ہاتھ رکھو گے میں اسے گیان بخش دوں گا۔ وہ کار سرکار جان لے گا۔

ریاستی اداروں کے سارے سربراہ سر جوڑ لیتے ہیں۔ فیصلہ انہی کو کرنا ہے۔ ملک حسب معمول نازک دور سے گزر رہا ہے۔ انہی کے فیصلے سے آئندہ کا پتہ لگنا ہے کہ اگلا دور کون نازک کرے گا اور کدھر لے جائے گا ۔

یہ ابھی مشورہ کرتے ہیں کہ گرو کی آواز سنائی دیتی ہے۔ میرے بچو فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا۔ تمھارا لایا ہوا حکمران تم میں سے کچھ کو ضرور اپنے عہدوں سے برطرف کر دے گا۔ تمھاری اپنی قسمت تمھارے اپنے فیصلے کے ساتھ بندھی ہے۔

مزید پڑھیں: ڈونگا گلی سے کابل، پشاور اور سینیٹ الیکشن تک

اک ذرا دیر کو خاموشی ہوتی ہے۔ پھر سب کی طرف سے قاضی اعلان کرتا ہے کہ گرو اس سنڈے کو کار سرکار کا گیان بخش دیں۔ قحط تھا یا سیلاب، لڑائی تھی یا امن، یہ ہر حال میں مگن تھا۔ اسے بس سواری ہی کرنی ہے۔ کرتا رہے گا ملکی معاملات ہم چلاتے رہیں گے۔

کہانی ویتنام کی ایک فلم سے ماخوذ ہے۔  ایک کہاوت پشتو کی بھی ایسی سی  ہے کہ ’دہ میخے یار سنڈا ای‘ یعنی بھینس کا یار پھر سنڈا ہی ہوتا ہے۔ اپن نے بس بھینس کے یار اس سنڈے کو بادشاہ بنانے والی آئٹم کو داد دینے کے لیے یہ تحریر بہت پہلے لکھی تھی ۔ آپ کو بری لگے تو اچھا لگے گا۔ غصہ ہو کر ہی حالات بدل لیں سرکار۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

بھینسوں کا ریوڑ ریاستی ادارے ویتنام ویتنامی فلم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ریاستی ادارے ویتنام ویتنامی فلم بھینس پر سوار بھینسوں کے بھینسوں کا دیوار پر کے ساتھ کرتا ہے ایک بہت میں ایک پر ایک رہا ہے کی طرف کا ایک

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق