اسرائیل میں عوامی بےچینی، ممکنہ ایرانی حملے کے پیش نظر اشیاء کی قلت شروع
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران کے ممکنہ حملے کے خدشے پر اسرائیل میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی، شہریوں نے بڑی تعداد میں سپر مارکیٹس کا رخ کیا، جس کے نتیجے میں کھانے پینے اور ضروری اشیاء کے شیلف خالی ہونے لگے۔
تل ابیب: ایران پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی شدید تر ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل میں عوامی سطح پر شدید بے چینی اور خوف کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی شہریوں نے ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خدشے کے پیشِ نظر بڑی تعداد میں سپر مارکیٹس اور اسٹورز کا رخ کر لیا، جہاں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی خریداری کے دوران عوام میں خاصی بے تابی دیکھی گئی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہری پانی، خشک خوراک، ڈبہ بند اشیاء، طبی سامان اور دیگر ضروریاتِ زندگی بڑی مقدار میں خرید رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر اسٹورز کے شیلف خالی ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی شہری گھبراہٹ کے عالم میں اشیائے خور و نوش اکٹھی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے حالیہ دنوں میں ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردِعمل اور ممکنہ جوابی حملے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عوامی سطح پر اس صورتحال نے خوف کی لہر دوڑا دی ہے اور شہری ایمرجنسی حالات کے پیشِ نظر تیاریاں کر رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری یہ کشیدگی ایک بڑے تنازعے کو جنم دے سکتی ہے، اور موجودہ حالات میں عوام کا اضطراب اس خدشے کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔