data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران کے ممکنہ حملے کے خدشے پر اسرائیل میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی، شہریوں نے بڑی تعداد میں سپر مارکیٹس کا رخ کیا، جس کے نتیجے میں کھانے پینے اور ضروری اشیاء کے شیلف خالی ہونے لگے۔

تل ابیب: ایران پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی شدید تر ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل میں عوامی سطح پر شدید بے چینی اور خوف کی فضا قائم ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی شہریوں نے ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خدشے کے پیشِ نظر بڑی تعداد میں سپر مارکیٹس اور اسٹورز کا رخ کر لیا، جہاں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی خریداری کے دوران عوام میں خاصی بے تابی دیکھی گئی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہری پانی، خشک خوراک، ڈبہ بند اشیاء، طبی سامان اور دیگر ضروریاتِ زندگی بڑی مقدار میں خرید رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر اسٹورز کے شیلف خالی ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی شہری گھبراہٹ کے عالم میں اشیائے خور و نوش اکٹھی کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے حالیہ دنوں میں ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردِعمل اور ممکنہ جوابی حملے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عوامی سطح پر اس صورتحال نے خوف کی لہر دوڑا دی ہے اور شہری ایمرجنسی حالات کے پیشِ نظر تیاریاں کر رہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری یہ کشیدگی ایک بڑے تنازعے کو جنم دے سکتی ہے، اور موجودہ حالات میں عوام کا اضطراب اس خدشے کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام