مسئلہ کشمیرحل کئے بغیر معاملات ٹھیک نہیں ہوسکتے، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
برسلز: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ بنیادی ہے اسے حل کیے بغیر معاملات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔
یورپین تھنک ٹینک سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل ہے، بھارت ڈھٹائی سے مقبوضہ کشمیر کو اندرونی مسئلہ قرار دیتا چلا آرہا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادیں ثبوت ہیں مقبوضہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں۔ کشمیر سے نظریں چرانے کی وجہ سے دہشت گردی کو تقویت ملتی ہے۔
بلاو ل بھٹو نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ بنیادی ہے اسے حل کیے بغیر معاملات ٹھیک نہیں ہوسکتے، مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ نظرانداز کرکے کیا مسائل حل ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی اسپانسر کررہا ہے، ٹھوس شواہد ہیں بھارتی پراکیسز بلوچستان میں دہشت گردی کررہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نریندر مودی دہشت گردی کی آر میں بھارتی مسلمانوں کو بھی دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ ایک آدمی اپنے ملک کے لوگوں کو دہشت گرد کہتا ہے کیا یہ عقل کی بات ہے، مودی کی سوچ، بیانیہ اور اقدامات کسی صورت امن کے پیامبر نہیں، ہندوتوا انتہا پسندی کی وجہ سے بھی دہشت گردی جنم لے رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ثبوت ہیں پاکستان میں کیے گئے دہشت گرد حملوں کی کمیونی کیشن بھارت سے ہوئی، بھارت نے دوبارہ حملہ کرنے کی حماقت کی تو ہمارا جواب پہلے سے زیادہ شدید ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :