WE News:
2026-07-24@01:30:55 GMT

ہانیہ عامر کی سردار جی 3 میں شمولیت پر تنازع کھڑا ہوگیا

اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT

ہانیہ عامر کی سردار جی 3 میں شمولیت پر تنازع کھڑا ہوگیا

بھارتی پنجابی فلم سردار جی 3 میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کی مبینہ شمولیت پر نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

فلم کے مرکزی اداکار و گلوکار دلجیت دوسانجھ کے ساتھ ہانیہ عامر کی ممکنہ جوڑی نے ابتدائی طور پر مداحوں کی توجہ حاصل کی تھی، خاص طور پر جب ہانیہ نے لندن میں دلجیت کے کنسرٹ کے دوران اسٹیج پر ان کے ساتھ شرکت کی۔ اس کے بعد خبریں گردش کرنے لگیں کہ ہانیہ کو فلم میں کاسٹ کر لیا گیا ہے اور وہ جلد ہی اپنے مناظر کی شوٹنگ مکمل کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: ہانیہ عامر اور فہد مصطفیٰ امریکا میں منعقدہ تقریب ادھوری چھوڑ کر کیوں چلے گئے؟

تاہم 22 اپریل 2025 کو پہلگام حملے کے بعد بھارت کی کئی فلمی تنظیموں، بشمول فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا نے ایمپلائیز (FWICE)، نے پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون پر اعتراض کیا اور ان پر بالی ووڈ میں پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا پر #BOYCOTTSARDARJI3 جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے۔

رپورٹس کے مطابق فلم کی یوکے شوٹنگ شیڈول کے دوران ہانیہ عامر کے کچھ مناظر عکسبند کیے گئے تھے، لیکن پاک بھارت کشیدگی کے بعد پروڈکشن ٹیم اب ان مناظر کو حذف کرنے یا دوبارہ شوٹ کرنے پر غور کررہی ہے۔ بعض رپورٹس یہ بھی دعویٰ کر رہی ہیں کہ ہانیا اب اس منصوبے کا حصہ نہیں رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی دھمکی کے بعد ہانیہ عامر کے لیے بھارتی مداح کی جانب سے پانی کا خصوصی تحفہ

بولی وڈ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہانیہ عامر کی شمولیت کو ممکنہ طور پر صرف ایک اسٹنٹ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا تاکہ فلم کو پاکستانی اور بھارتی ناظرین میں یکساں مقبولیت حاصل ہو، تاہم اس حوالے سے ہانیا عامر کی ٹیم یا دلجیت دوسانجھ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بالی ووڈ بھارت پاکستان پنجابی فلم سردار جی 3 ہانیہ عامر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بالی ووڈ بھارت پاکستان پنجابی فلم ہانیہ عامر ہانیہ عامر کی کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا