بھارت نے پانی روکا تو پاکستان کا ردِعمل یقینی ہو گا: بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
بلاول بھٹو زرداری—فائل فوٹو
پاکستان کے پارلیمانی سفارتی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت نے پانی روکا تو پاکستان کا ردِعمل یقینی ہو گا۔
برسلز میں یورپین تھنک ٹینک سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا خطے میں امن خراب کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے پانی روکا تو پاکستان جوابی عملی اقدامات پر مجبور ہو گا اور ردِ عمل یقینی ہو گا، ماحولیاتی وسائل کو ہتھیار بنانا خطرناک ہو سکتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، سابق وزیرِ خارجہ اور پارلیمانی سفارتی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خطہ ایران اور اسرائیل جنگ کی طوالت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
پارلیمانی سفارتی وفد کے سربراہ نے مزید کہا کہ نریندر مودی حکومت نے پہلگام واقعے پر اب تک کوئی شواہد پیش نہیں کیے، بھارتی حملوں کے جواب میں پاکستان نے دفاع کا حق استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے پر تحقیقات کی پیشکش کی، بھارت نے پیشکش کے جواب میں بلااشتعال جارحیت کی، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ غیر قانونی طور پر معطل کر دیا، پاکستان نے جارحانہ اقدامات کے بجائے تحمل سے کام لیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت پہلگام واقعے کے ذمے داروں کے نام اور شناخت تاحال سامنے نہیں لایا، نریندر مودی کے اقدامات خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ بھارت نے پہلگام واقعے کا پاکستان پر جھوٹا، بے بنیاد الزام لگایا، پاکستان بھارت کے ساتھ تمام مسائل بات چیت سے حل کرنے کا خواہاں ہے۔
پارلیمانی سفارتی وفد کے سربراہ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہیے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ہزاروں جانوں کی قربانی دی، افغان صورتِ حال کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے، بھارت میں ہندو توا پالیسی کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے ایران پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ خطے میں جنگ کو فوری طور پر روکا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری نے کہا نے کہا کہ بھارت پہلگام واقعے پاکستان نے بھارت نے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔