ایران کا اسرائیل کا تیسرا F35 لڑاکا طیارہ مار گرانے، ایک اور اسرائیلی پائلٹ پکڑنے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
تہران(نیوز ڈیسک)ایران نے اسرائیل کا تیسرا ایف 35 لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ایک اور اسرائیلی پائلٹ کو حراست میں لے لیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جس کے بعد اب تک حراست میں لیے گئے اسرائیلی پائلٹوں کی تعداد 2 ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ایران کی جانب سے اسرائیل کے 2 لڑاکا طیارے گرانے اور خاتون اسرائیلی پائلٹ کو حراست میں لینے کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔
واضح رہے کہ 12 اور 13 جون کی درمیانی شب اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا جس کے جواب میں ایران کی جانب سے آپریشن وعدہ صادق سوم جاری ہے، ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی برسات کر دی ہے۔
ایران نے اسرائیل پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے کا اعلان بھی کر دیا، جس کے بارے میں فرانس، برطانیہ اور امریکا کو باضابطہ آگاہ بھی کر دیا ہے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل کے تازہ حملوں میں 3 ایرانی جوہری سائنس دانوں اور پاس دارانِ انقلاب کے 3 اہل کاروں کی شہادت کی تصدیق کی گئی ہے۔
ایران نے مسلح افواج کے مزید 2 ڈپٹی کمانڈر میجر مہدی ربانی اور میجر غلام رضا محرابی کی شہادت کی بھی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے بھی ایران پرحملے جاری ہیں، اسرائیل کی جانب سے تہران، تبریز، لورستان، ہمدان، کرمان شاہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تہران میں 14 منزلہ رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملے میں 20 بچوں سمیت 60 شہری شہید ہو گئے۔
اسرائیل نے 9 سینئر ایرانی جوہری سائنس دانوں کو ہلاک اور اصفہان اور نطنز جوہری مراکز کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
مزیدپڑھیں:اسرائیل کا دوسرا نشانہ پاکستان ہو سکتا ہے: اسد قیصر
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کی جانب سے ایران نے
پڑھیں:
پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔