خیبر پختونخوا کا 2119 ارب کا سرپلس بجٹ پیش
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پینشن میں سات فیصد اضافہ تجویز کیا ہے۔ ایگزیکٹو الاوئنس نہ لینے والے ملازمین کا ڈسپیرٹی الاوئنس 15 سے 20 فیصد بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 2025-26ء کے لیے 2119 ارب روپے کا سرپلس بجٹ اسمبلی میں پیش کردیا، سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 547 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ کے پی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں وزیر قانون بابر سلیم نے بجٹ پیش کیا۔ بجٹ دستاویز کے مطابق بجٹ کا حجم 2119 ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں سالانہ کل اخراجات کا تخمینہ 1962 ارب روپے لگایا گیا ہے، بجٹ 157 ارب روپے سر پلس رکھا گیا ہیں، سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 547 ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے۔ کے پی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پینشن میں سات فیصد اضافہ تجویز کیا ہے۔ ایگزیکٹو الاوئنس نہ لینے والے ملازمین کا ڈسپیرٹی الاوئنس 15 سے 20 فیصد بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں حکومت اعلان کے مطابق صوبے بھر میں کم سے کم ماہانہ اجرت 36ہزار سے بڑھا کر 40ہزار روپے کردی گئی ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق ایم ایف سی کے تحت صوبے کو 267ارب روپے کمی کا سامنا ہے، بجلی خالص منافع کی مد میں وفاق کے ذمہ 71ارب روپے کے بقایا جات ہے،آئل و گیس کی مد میں وفاق کے ذمہ 58 ارب روپے واجب الاد ہے، بیرونی امداد گرانٹس کی مد میں صوبے کو 177ارب روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق بجٹ میں تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے لیے 1415ارب روپے رکھے گئے ہیں، بندوبستی اضلاع کے اخراجات جاریہ کے لیے 1255 ارب، قبائلی اضلاع کے لیے 160 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، نئے سال میں محصولات کا تخمینہ 129 ارب روپے لگایا گیا ہے، رہائشی اور کمرشل پراپرٹی الاٹمنٹ ٹرانسفر اور اسٹاپ ڈیوٹی دو فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کردی گئی۔
4.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی تجویز دی گئی ہے کرنے کی تجویز کے مطابق ارب روپے گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔