Jasarat News:
2026-06-03@08:00:40 GMT

ایران پر اسرائیل کا حملہ

اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ اسرائیلی دہشت گردی کا شکار ہے، لیکن اس بار ہدف فلسطین یا غزہ نہیں بلکہ ایران کے بڑے شہر ہیں۔ ایران، جہاں نطنز کا ایٹمی ری ایکٹر، فوجی مراکز اور شہری آبادیاں نشانہ بنائی گئیں، درحقیقت نہ صرف ایک خودمختار ریاست پر حملہ ہے بلکہ یہ پورے عالم ِ اسلام پر اعلانِ جنگ ہے۔ تہران، تبریز اور دیگر بارہ صوبوں میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 20 سے زائد اعلیٰ ایرانی کمانڈر، 6 ایٹمی سائنس دان اور 78 شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ایران نے اسرائیل کے حملوں کے بعد جوابی کارروائی کو آپریشن ’وعدہِ صادق 3‘ کا نام دیا ہے۔ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیل میں ایک خاتون ہلاک اور چالیس افراد زخمی ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں دشمن کو ’کاری ضربیں‘ لگانے کا اعلان کیا ہے۔یہ صرف ایران نہیں بلکہ ہر مسلمان ملک کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے کہ اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل ان کے دروازے پر بھی یہی قیامت دستک دے سکتی ہے۔ اس ساری جارحیت کے پیچھے اگر کوئی اصل مجرم ہے تو وہ امریکا ہے۔ اسرائیل کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی تاریخ اگر اٹھا کر دیکھی جائے تو ہر بڑی کارروائی میں امریکا نے یا تو مکمل خاموشی اختیار کی، یا پھر کھل کر اسرائیل کی حمایت کی۔ اس حملے کے تناظر میں بھی واضح ہے کہ اسرائیل نے یہ کارروائی امریکی آشیرباد سے کی۔ پہلے امریکا کی طرف سے وضاحت آتی رہی کہ اسرائیل نے ہم سے پوچھ کر حملہ نہیں کیا اور ہمارا اس سے تعلق نہیں، لیکن پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے لیے ممکنہ تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے فوری طور پر معاہدے پر عمل نہ کیا تو جسے کبھی ’ایرانی سلطنت‘ کہا جاتا تھا، سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ 1981 میں جب اسرائیل نے عراق کے اوسیراک نیوکلیئر ری ایکٹر پر حملہ کیا تھا تو دنیا نے اس کی مذمت کی، لیکن امریکا نے ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کو بچا لیا۔ اسی طرح 2006 میں لبنان پر بمباری، 2008 اور 2014، اور مستقل 2025 میں غزہ کی تباہی، ہر موقع پر امریکا اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑا رہا۔ یہاں تک کہ جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیل کی مذمت میں قراردادیں منظور کی گئیں، تو سلامتی کونسل میں امریکا نے انہیں ویٹو کر کے عالمی انصاف کا گلا گھونٹا۔ امریکا کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کی حمایت صرف وقتی مفاد نہیں بلکہ ایک اصولی پوزیشن ہے۔ امریکا اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنا ’فرنٹ لائن اتحادی‘ سمجھتا ہے، جو اس کے تزویراتی مقاصد کے لیے کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا سالانہ 3.

8 بلین ڈالرز کی فوجی امداد اسرائیل کو دیتا ہے۔ جدید ترین اسلحہ، انٹیلی جنس شیئرنگ، سائبر ٹیکنالوجی، اور یہاں تک کہ جوہری دفاعی نظام بھی امریکا کی دین ہے۔ آئرن ڈوم (Iron Dome) جیسا میزائل دفاعی نظام امریکی سرمائے سے تیار ہوا۔ ایران نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط لکھا، حملوں کی شکایت کی اور فیصلہ کن ردِعمل کا اعلان کیا۔ لیکن کیا سلامتی کونسل میں انصاف کی کوئی امید ہے؟ جب وہاں امریکا جیسا ویٹو پاور رکھتا ہو، تو وہاں انصاف کی تلاش کرنا کسی سراب کے پیچھے دوڑنے کے مترادف ہے۔ یہ جنگ صرف ایران کی نہیں۔ اگر آج امت ِ مسلمہ نے ہوش کے ناخن نہ لیے، تو ایک ایک کر کے سب کی باری آئے گی۔ سعودی عرب جتنی بھی امریکا کی خوشامد کرے، اگر وہ مظلوم کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا، تو وہ وقت دور نہیں جب وہ بھی اسرائیل اور امریکا کی نظر میں بے مصرف ہو جائے گا۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملوں کے بعد خطے کو ’’تباہی‘‘ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو روکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی برادری کو اسرائیلی ڈاکوؤں کو ختم کرنا چاہیے جو عالمی اور علاقائی استحکام کو نشانہ بناتے ہیں۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی حکمت ِ عملی ایران پر حملوں کی لہر کے ساتھ خطے، بالخصوص غزہ، میں خون، آنسو اور عدم استحکام کے انتہائی خطرناک مرحلے میں لے جانے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ایران پر اسرائیل کے حملے ایک واضح اشتعال انگیزی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے بھی اسرائیل کی بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے اسرائیلی حملے کو انتہائی سنگین، غیرذمہ دارانہ اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے میں جانی نقصان پر ایرانی عوام سے اظہار ہمدردی کرتا ہوں۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا ہے کہ ایران کی جوہری اور عسکری تنصیبات پر اسرائیلی حملے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ’سنگین خطرہ‘ ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق 15 رکنی سلامتی کونسل نے اپنی معمول کی کارروائی معطل کرتے ہوئے اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور کیا۔ پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کو ’غیر ضروری اور غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی اور ایران کی حکومت اور عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیل ’تمام حدیں پار کر چکا ہے اور عالمی برادری کو اس کے جرائم کی سزا دیے بغیر نہیں چھوڑنا چاہیے‘۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بیانات کافی نہیں۔ انہیں بھی خاموشی سمجھا جائے گا۔ اس وقت حرکت کرنے کی ضرورت ہے، ایسی حرکت جو اسرائیل کو دہشت گردی سے روکے۔ لیکن بد قسمتی سے اس وقت ہر طرف مفادات، مصلحتوں اور خاموشی کی دیوار کھڑی ہے۔ لیکن یہ دیوار کب تک باقی رہے گی؟ اسرائیل کا اگلا ہدف کون ہوگا؟ سعودی عرب، ترکیہ؟ پاکستان؟ یہ سوالات اب محض خدشات نہیں بلکہ امکانات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایران نے جواباً اسرائیل پر میزائل داغے ہیں، جس کے بعد اطلاعات کے مطابق یروشلم میں سائرن بجنے لگے، اور عوام کو پناہ گاہوں میں منتقل کیا جاتا رہا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کو اس جارحیت پر پچھتانا پڑے گا۔ انہوں نے اپنی عوام سے متحد رہنے کی اپیل کی ہے۔ ایران کا دفاع درحقیقت امت ِ مسلمہ کے دفاع کا پہلا مورچہ ہے۔ اگر یہ مورچہ ٹوٹ گیا تو اسرائیل اور امریکا مزید دلیر ہو جائیں گے، اور پھر کوئی بھی ملک ان کی دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہے گا۔ یہ حملہ مستقبل کی جنگ کی پیش گوئی ہے۔ اب دنیا دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے: ایک طرف اسرائیل اور امریکا ہیں، دوسری طرف وہ ممالک جو ظلم کے خلاف کھڑے ہیں۔ چین، روس، ترکی اور پاکستان کا مستقبل میں اہم کردار بن سکتا ہے۔ اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ امریکا سے اپنی غلامی کا طوق اتار پھینکیں، او آئی سی کو فعال کریں، اور ایک مشترکہ فوجی، اقتصادی، اور سفارتی محاذ بنائیں۔ یہی وقت ہے کہ امت ِ مسلمہ ایک واضح اور بھرپور مؤقف اختیار کرے۔ بصورتِ دیگر تاریخ ہمیں صرف ذلت اور تباہی کی صورت میں یاد رکھے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے کہ اسرائیل سلامتی کونسل میں اسرائیل اسرائیل کو اسرائیل کی پر اسرائیل امریکا کی نہیں بلکہ ایران کے کے مطابق ایران پر ایران نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام