خارجی بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان، فوج اسے مار دے مجھے کوئی اعتراض نہیں: والد
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
احمد منصور : انتہا پسندی مسترد, خارجی بیٹے سے لاتعلقی, باپ کا دہشتگردی کے خلاف دو ٹوک اعلان، فتنہ الخوارج کی دہشتگردی سے متاثر خیبر پختونخوا کے عوام نے انتہا پسندی کو یکسر مسترد کر دیا ہے، ڈی آئی خان کے رہائشی نے دہشتگرد بیٹے سے لا تعلقی کا اعلان کر دیا.
کوٹ عیسیٰ خان کے رہائشی خارجی صدیق کے والد کا ویڈیو پیغام وائرل ہوا، خارجی صدیق کے والد کا کہنا تھاکہ میرا بیٹا صدیق خارجی ہے جو طالبان کے ساتھ ملا ہوا ہے۔
تہران: رہائشی کمپلیکس پر اسرائیلی حملے میں شہداء کی تعداد 60 ہوگئی,20 بچے بھی شامل
فوج اسے گرفتار کرے یا مار دے، مجھے کوئی اعتراض نہیں، میں نہ اس کو دیکھنا چاہتا ہوں، نہ اس کے جنازے میں شریک ہوں گا۔
ویڈیو میں کہا کہ میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں، وہ میرے لیے مر چکا ہے، اگر اسے میری سفید داڑھی کا احترام نہیں تو میں کیوں اس کا لحاظ رکھوں؟
حکومت اگر اُسے اٹھانا چاہے تو بلا جھجک لے جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔