سٹی 42 : صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ بیرون ممالک بالخصوص یورپ میں آباد کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے کے لیے مسئلہ کشمیر کو پورے شدو مد سے اٹھانا چاہیے۔ اب جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے توہمیں اس پیشکش سے فائدہ اٹھانے چاہیے اور اب جب بھی مسئلہ کشمیر پر مذاکرات ہوں تو کشمیری عوام کو بھی مذاکرات کی میز پر بٹھایا جائے تاکہ مسئلہ کشمیر کا جامع اور پائیدار حل نکلے۔ کیونکہ جنوبی ایشیاء میں امن کی کنجی مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے۔

پنجاب اسمبلی کا بجٹ کل وزیر خزانہ مجتبی شجاع الرحمان پیش کریں گے

ان خیالات کا اظہار صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے ایوانِ صدر کشمیر ہاؤس میں کشمیر پیس فورم انٹرنیشنل یورپ کے صدر زاہد ہاشمی سے تفصیلی ملاقات میں کیا۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ یہ ایک بہترین وقت ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے اور ہمیں ثالثی کی اس پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں مثبت پیش رفت ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دلوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ کشمیری کئی دہائیوں سے نسل در نسل اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں اور بھارتی ظلم و جبر کا مقابلہ کر رہے۔

لاہور میں 244 ٹریفک حادثات، 295 افراد زخمی

 بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شروع کر دی ہیں۔ وہ مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کر کے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ ایسی صورتحال میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور دنیا کو یہ باور کروانا ہو گا کہ کشمیری عوام مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے جابرانہ و غاصبانہ قبضہ سے آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ثالثی کی پیشکش انتہائی خوش آئند ہے۔ مسئلہ کشمیر کا مستقل حل صرف مذاکرات میں ہی پوشیدہ ہے مگر مذاکرات کی میز پر مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری عوام کو بھی بٹھایا جائے کیونکہ مسئلہ کشمیر کے اصل اور اہم فریق کشمیری عوام ہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں پوری دنیا میں مقیم کشمیری متحد اور متفق ہو کر انٹرنیشنل کمیونٹی تک کشمیریوں کا مقدمہ پہنچائیں۔

ایم این اے سیف الملوک کھوکھر کی این اے 126 مرغزار آمد؛ حلقے کے مسائل پر بات چیت

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہی ہے۔ پاک بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور دونوں کے درمیان کوئی بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔ عالمی برادری یہ بات ذہن نشین کر لے کہ جنوبی ایشیاء کے امن کی کنجی مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے اور مسئلہ کشمیر کے اصل اور اہم فریق کشمیری عوام ہیں اور انہیں مذاکرات میں شامل کیا جائے تاکہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل نکل سکے۔

جیب کتروں نے 5 ماہ میں 9720 لاہوریوں کی جیبیں کاٹ لیں

صدر آزاد جموں و کشمیر  نے کہا کہ یورپ اور فرانس میں مقیم کشمیری مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھرپور انداز میں آواز اٹھائیں اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق خود ارادیت دلوانے کے لیے دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر پر مبذول کروائیں۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی دلچسپی سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کشمیر پیس فورم انٹرنیشنل یورپ کے صدر زاہد ہاشمی نے صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو فرانس کے دورے کی دعوت دی، جو صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے قبول کر لی اورکہا کہ وہ جلد ہی یورپ کا دورہ کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مسئلہ کشمیر کے حل میں کہ مسئلہ کشمیر مسئلہ کشمیر پر جنوبی ایشیاء کشمیری عوام نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے