data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تل ابیب: اسرائیلی فوج نے ایرانی دارالحکومت تہران میں وسیع پیمانے پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ 50 جہازوں کے ذریعے 170 ایرانی ملٹری اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں ایرانی فضائیہ کے کمپلیکس پر بم باری کی ہے، تہران میں انقلابی گارڈز اور ایرانی دفاعی نظام سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری ہتھیاروں کی تنصیب اور ایندھن ذخائر کو نشانہ بنایا گیا ہے، تہران میں ایران کی دفاعی ایجادات اور ریسرچ ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوجی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وزارتِ دفاع کے ہیڈکوارٹر اور جوہری ہتھیاروں سے منسلک مقامات کو بھی ہدف بنایا گیا۔

فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل نے گزشتہ روز تہران میں تقریباً 80 اہداف پر حملہ کیا، آج مغربی ایران میں اسٹوریج اور انفرا اسٹرکچر سائٹس پر حملے کیے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے ایرانی شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایران میں ایٹمی تنصیبات کے قریب رہنے والے محفوظ مقامات کی طرف چلے جائیں۔

اسرائیلی فوجی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران جان بوجھ کر اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، یہ مس فائر نہیں ہیں، ایران میں اہداف کی ایک بڑی فہرست ہے، جسے ابھی نشانہ بنانا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں سے ایران میں 2 روز میں 128 افراد شہید ہوئے ہیں، اسرائیلی حملوں میں شہادتیں جمعے اور ہفتے کو ہوئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوجی نشانہ بنایا بنایا گیا تہران میں ایران میں کے مطابق کو نشانہ

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان