Islam Times:
2026-07-24@06:16:12 GMT

کوئٹہ میں پٹرول کا بحران، بیشتر پٹرول پمپس بند

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

کوئٹہ میں پٹرول کا بحران، بیشتر پٹرول پمپس بند

عوام الناس کی جانب سے پٹرول پمپس پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ عوام کو پاکستانی پٹرول کے نام پر ایرانی پٹرول مہنگے دام فروخت کیا جا رہا تھا۔ ایران کیجانب سے پٹرول کی ترسیل بند ہونے سے قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پٹرول کا بحران پیدا ہو گیا۔ شہر کے بیشتر پٹرول پمپس میں پٹرول ختم ہو چکے ہیں، جبکہ باقی پٹرول پمپس پر لوگوں کا ہجوم پٹرول ڈلوانے کے لئے جمع ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے انتظامیہ کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد اضلاع میں پٹرول کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ شہر کے بیشتر پٹرول پمپس بند ہو گئے ہیں، جبکہ جو پٹرول پمپس کھلے ہیں، ان کے سامنے لوگوں کی بڑی تعداد لائن لگائے کھڑی ہے۔ اس حوالے سے پٹرول پمپ مالکان کوئی واضح موقف پیش نہیں کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کا بھی کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی مسئلے کے حل کے حوالے سے کوئی اقدام اٹھایا گیا ہے۔ اتفاقی طور پر یہ بحران عین اس وقت پیدا ہوا ہے، جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث ایران سے غیر قانونی طور پر بلوچستان آنے والی پٹرول کی ترسیل بند ہوئی۔ عوام الناس کی جانب سے پٹرول پمپس پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ عوام کو پاکستانی پٹرول کے نام پر ایرانی پٹرول مہنگے دام فروخت کیا جا رہا تھا۔ ایران کی جانب سے پٹرول کی ترسیل بند ہونے سے قلت پیدا ہو گئی ہے۔ تاہم عوام انتظامیہ کے منتظر ہے کہ پٹرول کے بحران پر قابو پاتے ہوئے مسئلے کو حل کیا جائے۔ واضح رہے کہ ایران سے غیر قانونی طور پر پٹرول کی بھاری مقدار اسمگل ہوتی ہے۔ جس کے فروخت پر حکومت کی جانب سے پابندی عائد ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جانب سے پٹرول پٹرول پمپس کی جانب سے کیا جا رہا میں پٹرول پٹرول کی پیدا ہو بند ہو

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا