ایرانی میزائلوں نے نیتن یاہو کو بنکر سے نکلنے پر مجبور کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
قدس کی غاصب اور جابر صیہونی وزیراعظم تل ابیب کے جنوب میں ایرانی میزائل کے حملے سے ہونے والی تباہی کو قریب سے دیکھنے کے مقام پر پہنچے۔ صیہونی وزیراعظم نے تل ابیب کے جنوب میں واقع بات یام میں ایرانی میزائل حملے کی جگہ کا دورہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کے مسلسل میزائلی حملوں سے صیہونیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ اب مقبوضہ سرزمین سے بھاگنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔قدس کی غاصب اور جابر صیہونی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو تل ابیب کے جنوب میں ایرانی میزائل کے حملے سے ہونے والی تباہی کو قریب سے دیکھنے کے مقام پر پہنچے۔ الجزیرہ نے عبرانی میڈیا کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بن یامین نیتن یاہو نے تل ابیب کے جنوب میں واقع بات یام میں ایرانی میزائل حملے کی جگہ کا دورہ کیا۔
بن یامین نیتن یاہوپر صیہونیوں کا بڑا دباو تھا کہ وہ بنکر سے نکل جائیں اس لئے کہ عالمی سطح پراس کی بڑے پیمانے پر جگ ہنسائی ہو رہی ہے کہ وہ ایرانی حملوں کے خوف سے بنکر میں چھپ گئے ہیں۔ اس سے قبل یہ اطلاع ملی تھی کہ نیتن یاہو ایرانی میزائل حملوں کی وجہ سے زیر زمین اپنی کابینہ کا اجلاس کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تل ابیب کے جنوب میں میں ایرانی میزائل نیتن یاہو
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔