بھارت سے کشیدگی: دفاع بجٹ میں اضافہ ناگزیر تھا، ماہرین
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (صباح نیوز) پائیدار ترقیاتی پالیسی ادارہ کے ماہرین نے بجٹ 2025-26 پر بعد از بجٹ میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں شامل اقدامات سے ملک کے معاشی استحکام، قرضوں کی ادائیگی، موسمیاتی اہداف اور سماجی تحفظ کو شدید خدشات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام اس میڈیا بریفنگ میں ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پاکستان اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور حکومت کے پاس صرف 11 کھرب روپے کی محدود گنجائش ہے جبکہ قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی ضروریات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’بھارت کا 80 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے بجٹ کے مقابلے میں بہت بڑا ہے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں دفاعی اخراجات میں اضافہ مجبوری بن چکا ہے، لیکن اس کا خمیازہ ترقیاتی اخراجات کو بھگتنا پڑے گا۔ ڈاکٹر سلہری نے بجٹ میں دی گئی ٹیکس پالیسی، خاص طور پر شمسی توانائی کے آلات پر 18 فیصد جی ایس ٹی کو پاکستان کے موسمیاتی اہداف کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی NDCs، کاربن لیوی اور عالمی وعدوں کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ’’پانی کو دفاع کے برابر اہمیت دی جانی چاہیے‘‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔