فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملے میں اسرائیلی فوجی ہلاک،مزید 23 فلسطینی شہید،مصر میں نیلسن منڈیلا کے نواسے کا پاسپورٹ ضبط
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250616-01-14
غزہ/بارسلونا/قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق 21 سالہ سارجنٹ نوم شمیش اسکواڈ کمانڈر تھا جو کہ خان یونس میں مزاحمت کاروں کے آر پی جی کے حملے میں مارا گیا۔اسرائیلی فوج کے مطابق حملے میں ایک اور اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اکتوبر 2023 ء میں غزہ کی پٹی میں شروع ہونے والے اسرائیلی فوج کے آپریشن میں 430 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ایک ہفتہ قبل بھی خان یونس میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملے میں 4 اسرائیلی فوجی ہلاک جب کہ 5 زخمی ہوگئے تھے۔ علاوہ ازیں غزہ پٹی میں اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں جہاں حالیہ تشدد میں امداد کے منتظر 12 فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ 24گھنٹوں کے دوران مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 23 نہتے فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ اسپین کے شہر بارسلونا میں فلسطینیوں کے حق میں ایک بڑا مظاہرہ بھی ہوا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور عالمی برادری سے فلسطینیوں کے حقوق کے دفاع کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب یمن میں اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں حوثی ملیشیا کے اہم کمانڈر محمد عبدالکریم الغماری شہید ہو گئے ہیں، جس سے خطے میں صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے۔مزید برآں گلوبل مارچ ٹو غزہ میں شرکت کے لیے مصر پہنچے نیلسن منڈیلا کے نواسے کا پاسپورٹ ضبط کرلیا گیا۔نیلسن منڈیلا کے نواسے (Zwelivelile Mandela) کے بقول وہ قاہرہ میں چیک پوائنٹ پر موجود ہیں اور ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا ہے۔خیال رہے کہ گلوبل مارچ ٹو غزہ اسرائیلی ناکا بندی کو توڑنے کی تحریک ہے جس نے غزہ کو قحط کے دہانے پر دھکیل دیا ہے، مارچ میں 80 سے زاید ممالک کے تقریباً 4,000 رضاکار شامل ہوں گے۔واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 54 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جب کہ ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوجی ہلاک مزاحمت کاروں کے کے حملے میں
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین