ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس، ملزم کی سزا سے متعلق اہم پیشرفت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں عدالت نے ملزم کا مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے گرفتار ملزم عمر حیات کو علاقہ مجسٹریٹ محمد حفیظ کی عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے شناخت پریڈ کیلئے ملزم کو جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
پولیس کی جانب سے شناخت پریڈ کا عمل مکمل ہونے پر ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا، پراسیکیوشن نے کہا کہ ملزم کی شناخت ہوگئی ہے۔
دوران سماعت پولیس کی جانب سے ملزم کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، پراسیکیوشن نے مؤقف اپنایا کہ ملزم کو 2 لوگوں نے شناخت کیا ملزم کی والدہ اور پھوپھو نے، ملزم سے زیر استعمال موبائل فون اور گاڑی کی برآمدگی کیلئے ریمانڈ چاہیے۔
ملزم نے کہا کہ میں نے موبائل پولیس کو دے دیا ہے، میری درخواست ہے میرا میڈیکل کرایا جائے، جس پر عدالت نے ملزم کے میڈیکل کی ہدایت کر دی، ملزم نے مزید کہا کہ میرا فیملی سے رابطہ نہیں، ان کو پتا ہے کہ وکیل کرنا ہے یا نہیں۔بعدازاں عدالت نے ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔