اسلام آباد:

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے صنعتوں کی پیداوار کی مانیٹرنگ کے لیے ایف بی آر ملازمین کو تعینات کرنے کی تجویز مسترد کردی۔

سید نوید قمر کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس میں صنعتوں کی پیداوار کی مانیٹرنگ کے لیے ایف بی آر ملازمین کو تعینات کرنے کی تجویز مسترد کردی۔

چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ ایف بی آر کے ساتھ پولیس، رینجرز اور آئی بی ملازمین کو تعینات کرنے کا اختیار نہ دیا جائے ایف بی آر کے افسران کی جیبیں گرم کرنے کا طریقہ ہے۔

مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ فیکٹریوں میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کرنا کاروباری برادری کی تضحیک ہے اگر کل پولیس والے میری فیکٹری پر آکر بیٹھ گئے تو میں تالہ لگا دوں گا، ایف بی آر کو جو اختیارات دیے جا رہے ییں اس سے ملک میں کاروبار بند ہوجائے گا ۔

شرمیلا فاروقی نے کہا کہ اس تجویز سے ایف بی آر دوسرا نیب بن جائے گا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایف بی آر کی ساکھ کو بہتر کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں کمیٹی نے خصوصی اقتصادی زونز کو 2035 تک ٹیکس مراعات ختم کرنے کی اورغیر منافع بخش اداروں کو ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز منظور کرلی۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ غیر منافع بخش اداروں کا جائزہ لیا جائے غیر منافع بخش اداروں کو چیک کیا جائے گا کہ وہ کمرشل سرگرمیاں تو نہیں کر رہے۔ کمیٹی نے  ہائی رسک افراد کی بینکنگ معلومات ایف بی آر کے ساتھ شیئر کرنے کی تجویز موخر کردی۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اگر ایک شخص کی آمدن ماہانہ ایک کروڑ روپے ہو اور وہ 10 کروڑ کی ٹرانزیکشنز کرے گا تو اسے نوٹس بھیجا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ملازمین کو تعینات کرنے کرنے کی تجویز ایف بی آر نے کہا کہ جائے گا

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں
  • چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ، منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ