UrduPoint:
2026-06-03@05:44:10 GMT

پاکستان نے تیل ذخیرہ کرنے کے اقدامات شروع کر دیے

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

پاکستان نے تیل ذخیرہ کرنے کے اقدامات شروع کر دیے

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 جون2025ء) پاکستان نے تیل ذخیرہ کرنے کے اقدامات شروع کر دیے، وزیر خزانہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران اسرائیل جنگ کے پیش نظر ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اور اسٹاکس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز سید نوید قمر کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا کہ ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران تیل پیدا کرنے والا دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے، آبنائے ہرموز سے تیل کی سپلائی دنیا بھر میں متاثر ہوسکتی ہے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے آئندہ سال کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔ عمر ایوب نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے پاکستان کے تیل کی درآمد بڑھ سکتی ہے پاکستان کا بجٹ خسارہ بڑھ سکتا ہے۔

(جاری ہے)

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ علاقائی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے تیل قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے جس کا پہلا اجلاس ہوچکا اور اب تیل کی سپلائی اور ذخائر کا کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کی جنگ کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ پاکستان میں بھی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا۔ جبکہ یکم جولائی سے حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیے جانے کا امکان ہے۔                                                                   .

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی قیمتوں میں کی وجہ سے کہ ایران تیل کی رہا ہے

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟