جی سیون اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو ہر حال میں مذاکرات کی طرف آنا ہوگا، امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران یہ جنگ نہیں جیت رہا، ایرانی حکام کشیدگی میں کمی کے لیے بات چیت کرنا چاہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو کشیدگی کم کرنے پر بات کرنی چاہیے، اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے۔ جی سیون اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایران کو ہر حال میں مذاکرات کی طرف آنا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران یہ جنگ نہیں جیت رہا، ایرانی حکام کشیدگی میں کمی کے لیے بات چیت کرنا چاہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارا کوئی معاہدہ نہیں ہے انہیں ایک معاہدہ کرنا ہوگا، ایران کے پاس 60 دن تھے، 61 ویں دن میں یہ ہونا ہی تھا، جنگ دونوں فریقوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔ واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی جاری ہے، اسرائیل نے ایران پر فضائی بمباری کرتے ہوئے سرکاری ٹی وی کو نشانہ بنایا ہے، جہاں سے شہادتوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ ایران ایران کو نے کہا

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی