26 نومبر احتجاج کیس میں اسٹیٹ کونسل مقرر کرنے کیخلاف پی ٹی آئی کی اپیل منظور
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے 26 نومبر احتجاج کیس میں اسٹیٹ کونسل مقرر کرنے کیخلاف پی ٹی آئی کی اپیل منظور کرلی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے تھانہ رمنا کے مقدمہ نمبر 976 میں اسٹیٹ کونسل مقرر کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کیخلاف پی ٹی آئی کی اپیل منظور کرلی۔
عدالت نے ٹرائل کورٹ کا اسٹیٹ کونسل کی تقرری کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عامر ضیاء نے پی ٹی آئی کی اپیل پر فیصلہ سنایا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اسٹیٹ کونسل کی تقرری کیخلاف اپیل دائر کی گئی تھی، جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل نے ملزمان کے وکلاء کی عدم حاضری پر اسٹیٹ کونسل مقرر کیا تھا۔
دوسری جانب انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے پی ٹی آئی رہنما رؤف حسن اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ احمد جنجوعہ کیخلاف مبینہ بارودی مواد برآمد ہونے کے کیس میں ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کردیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس پر سماعت کی، عدالت نے کیس کی سماعت 28 جولائی تک ملتوی کردی، اگلی سماعت پر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی، پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمہ درج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کی اپیل اسٹیٹ کونسل مقرر
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں