data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جے یو پی یوتھ ونگ کراچی کے صدر راؤ عبدالرحمٰن کے نکاح کی پُروقار تقریب کراچی میں منعقد ہوئی، جس میں ممتاز مذہبی، سماجی، تعلیمی اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ نکاح کی سعادت ملک کے معروف عالم دین، سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے ادا کی۔تقریب میں شریک شخصیات میں جے یو پی کے مرکزی رہنماعلامہ قاضی احمد نورانی، تاجر رہنما حیدری مارکیٹ کے عبدالقادر سوریا، ماہر تعلیم پروفیسر تنویراحمد ملک، معروف اسکالروترجمان انجمن اتحادعباسیہ ڈاکٹر ایوب عباسی، ماہرین تعلیم شفیق احمد عباسی،محمد صدیق ملک، قاری جمیل اختر، مختار اجمیری، سر امتیاز، ولید رضا شہیدی، یاسر عالم نورانی، قاری خلیل احمدنورانی اور دیگر معززین شامل تھے۔ شرکاء نے راؤ عبدالرحمٰن اور ان کے اہل خانہ کو اس پرمسرت موقع پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔نکاح کی یہ تقریب سادگی، وقار اور دینی ماحول کا عملی مظہر تھی، جسے حاضرین نے ایک مثالی اور قابل تقلید نمونہ قرار دیا۔اس موقع پر مفتی منیب الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نکاح محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ سنتِ نبوی ﷺ ہے، جو انسان کی انفرادی اور معاشرتی زندگی میں سکون، طہارت اور برکت کا ذریعہ بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان اگر سادگی کے ساتھ نکاح جیسے بابرکت عمل کو اپنائیں تو معاشرے میں بے راہ روی، خاندانی بگاڑ اور اخلاقی انحطاط کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست

اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔

سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین
  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد