Daily Ausaf:
2026-07-24@16:10:27 GMT

الفاظ و معنی کے درو بست

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

آج کا اظہاریہ معمول سے ہٹ کر ہے یہ سوچ کے عمل کا شاخسانہ ہے۔ جو اس عمر رفتہ کا لازمہ ہے کہ ہم جو الفاظ استعمال کرتے ہیں ان کے معنی پر سرسری توجہ دے رہے ہوتے ہیں ان کے ہر رخ اور اس رخ کے معانی کو ادراک کی غرض سے ماورا رکھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ہر لفظ کے اپنے معنی اور اپنے نفسیاتی عوامل ہوتے ہیں ۔تمہید کو مختصر کرکے موضوع کا احاطہ کرتے ہیں ۔مثلاً ’’غیب‘‘ اور ’’غائب‘‘دونوں عربی نژاد لفظ ہیں، لیکن ان کے معنی اور استعمال میں واضح فرق ہے ۔’’غیب‘‘ ایسا چھپا ہوا یا غیر مرئی (unseen) وجود جو انسانی آنکھ سے مخفی ہو اورجسے حواس سے محسوس نہ کیا جا سکے ۔مذہبی اور فلسفیانہ اصطلاح کے طور پر اللہ،فرشتے ،جنت ،دوزخ اور مستقبل کے حالات جیسے امور کو ’’عالم الغیب‘‘کہا جاتا ہے۔استعمال، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا۔’’محبت‘‘ متوازن اور پر سکون جذبہ ہے جو عزت ،خیال اور وابستگی پر مشتمل ہوتا ہے۔محبت میں عقل اور شعور شامل ہوتے ہیں ،یعنی یہ جذبات کے ساتھ سوچ اور سمجھ کا بھی تقاضا کرتی ہے ۔اس سے مراد فقط رومان نہیں ہوتے بلکہ والدین ،دوستوں ،بہن بھائیوں اور خدا سے بھی کی جاتی ہے ۔’’عشق ‘‘محبت کی انتہا جو دیوانگی،جنون اور خود فراموشی کی کیفیت میں بدل جاتا ہے۔عشق میں اکثر عقل کم اور جذبات زیادہ کارفرما ہوتے ہیں جو بعض اوقات انسان کو خود سے لاپروا کردیتا ہے ۔یہ عام طور پر رومانی محبت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔یہ مجازی (انسان سے) اور حقیقی یعنی(خدا سے)کیا جاتا ہے ۔مجنوں کا لیلی سے عشق(مجازی)صوفیا کرام عشق الٰہی(حقیقی) میں اپنی ہستی مٹا لیتے ہیں۔’’عجز‘‘ اپنی ذاتی کمزوری ،،بے بسی ناتوانی خود کو مٹا لینے کاجذبہ جو عام طور پر اللہ کے حضور فریاد کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے اور بندوں کے ساتھ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر ہونا مراد ہے۔یعنی اپنی کم مائیگی کی انتہا۔’’انکسار‘‘ نرمی ،عاجزی اور خاکساری۔اس کا زیادہ تعلق دوسرے انسانوں کے ساتھ حسن سلوک، شائستگی و مہذب رویئے اور متواضع طریقے سے پیش آنا۔
کسی بڑی سے بڑی کامیابی پربھی عجز میں فرق نہ ہونا ،عزت ،دولت اور شہرت رکھنے کے باوصف انکسار برقرار رکھنا حقیقی عظمت کی علامت گردانا جانا۔عجزو انکسار میں بنیادی فرق ،عجز زیادہ تر اللہ کے حضور اپنی بے کسی ، محتاجی اور کمزوری کا اعتراف ہے۔انکسار زیادہ تر بندوں کے سامنے یا ساتھ نرمی ،عاجزی اور خاکساری کا اظہار ہے۔عجز میںمحتاجی غالب ہوتی ہے جبکہ انکسار میں احترام و اکرام اور محبت و وقار کا غلبہ ہوتا ہے۔عجز بندگی کی علامت ہے اور انکسار کے معنی ہیں حسن سلوک۔’’جدائی اور فراق‘‘ دونوں ہم معنی ہیں یعنی الگ ہونا،بچھڑنا یا دوری ۔ لیکن ان کے مفہوم میں شدت اور شدت کے استعمال میں فرق ہوتا ہے ۔مثلا ًجدائی، کسی سے الگ ہوجانا یا کسی سے جدا ہونا مستقل یا وقتی۔جدائی میں اتنی شدت یا گہرائی نہیں ہوتی جتنی فراق میں ہوتی ہے۔’’فراق‘‘ فراق کے معنی ہیں شدید جدائی کا غم جس کی وجہ سے دل میں درد محسوس کرنا۔فراق ظاہری دوری نہیں ہوتی بلکہ جذبات و احساسات میں تکلیف کا اظہار بھی ہوتا ہے ۔لفظ فراق محبت ،عشق یا کسی قریبی شخص کے بچھڑنے کے بعد جس کرب سے گزرنا پڑتا ہے اس کے لئے استعمال ہوتا ہے۔مثلاً محبو ب کے فراق کی راتیں بہت کٹھن ہوتی ہیں ۔ فراق زدہ آدمی کی زندگی ویران ہوجاتی ہے۔صوفی شعرا فراق کی کیفیت میں شاعری کرتے ہیں ۔’’مختلف‘‘ اور ’’متفرق‘‘ دونوں کاتعلق تنوع یا فرق سے ہے ، مگر ان کے مفہوم اور استعمال میں نمایاں فرق ہے ۔’’مختلف ‘‘ ایسا جو ایک جیسا نہ ہو،ایک دوسرے سے الگ یا جدا ہو،یہ عام طور پر موازنہ یعنی(Comparison)کے لئے استعمال ہوتا ہے۔مثلا ً ہر انسان کی سوچ اور خیالات مختلف ہوتے ہیں یا فلاں اور فلاں کی عادات مختلف ہیں ۔ ’’متفرق‘‘ بکھری ہوئی ،بے ربط (unrelated) متفرق کا مطلب ہے مختلف النوع یا بے ترتیب چیزوں کا مجموعہ جو عام طور پر بے ترتیب اور غیر مربوط اشیا ء کے لئے استعمال ہوتا ہے۔مثلاً کتاب متفرق موضوعات پرمشتمل ہے۔مختلف زیادہ واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے اور متفرق زیادہ اور بے ترتیب چیزوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
’’مذہب‘‘ اور ’’دین‘‘ اکثر ایک ہی معنی میں استعمال کئے جاتے ہیں، لیکن ان کے بیچ کچھ بنیادی فرق موجود ہے ۔’’مذہب‘‘ ایک رسمی ، نظریاتی اور اعتقادی نظام ۔جو مخصوص عقائد ، عبادات اور رسوم و رواج پر مشتمل ہوتاہے۔ مذہب کا تعلق عام طور پر عبادات ،رسومات اور روحانی عقائد سے ہوتا ہے۔مثلا: اسلام دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے ۔ہر مذہب کی اپنی مخصوص عبادات اور طریقے ہوتے ہیں ۔’’دین‘‘ یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں مکمل ضابطہ حیات یا زندگی گزارنے کا کامل نظام ۔ یہ فقط عقائد اور عبادات تک محدود نہیں ہوتا بلکہ معیشت، سیاست، معاشرت،عدل،اخلاقیات اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوئوں پر محیط ہوتا ہے ۔اسلام کو اس لئے دین سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ یہ زندگی کے ہر ہر پہلو کے لئے رہنمائی مہیا کرتا ہے۔مذہب اور دین میں یہی فرق ہے کہ مذہب عقائد تک محدود ہوتا ہے دین میں آفاقیت ہوتی ہے۔’’دنیا‘‘ اور’’کائنات‘‘ دونوں الفاظ عام طور پر وسیع پیمانے پر موجود حقائق کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ لیکن ان کے مفہوم ،دائرہ کار اور استعمال میں نمایاں فرق ہے ۔’’دنیا‘‘ زمین اور اس پر بسنے والی زندگی۔
دنیا فقط مادی اور انسانی زندگی تک محدود ہوتی ہے اور عارضی سمجھی جاتی ہے۔دنیا میں اشیا ء بدلتی رہتی ہیں یا دولت ،شہرت اور محبت نے اسے دنیا کی حقیقت بھلا دی جیسی مثالیں دی جاتی ہیں ۔ ’’کائنات‘‘ کائنات سے مراد ہر وہ چیز جو موجود ہے ،چاہیے وہ زمین پر ہو یا خلا میں ۔ اس میں ستارے ،سیارے ،کہکشائیں، اوروہ سب کچھ شامل ہوتا ہے جو کائناتی نظام کا حصہ ہے ۔یہ دنیا سے بہت زیادہ وسیع ہے اوراس کا دائرہ کار سائنسی اور فلکیاتی تحقیق میں بھی آتا ہے۔دنیا عارضی اور محدود ہے جبکہ کائنات پوری کی پوری مادی اور غیر مادی حقیقت کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جس میں دنیا محض ایک چھوٹا ساحصہ ہے ۔اگر ہم الفاظ و معنی کے رشتوں کی تلاش میں نکلیں تو زندگیاں بیت جائیں مگر یہ دنیا اور کائنات کے فرق کی طرح ہم ناپ نہیں پائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ہوتا ہے مثلا استعمال میں لیکن ان کے معنی ہیں ہوتے ہیں ہوتی ہے جاتا ہے کے معنی فرق ہے اور اس ہے اور

پڑھیں:

کراچی: کالجز میں تمباکو اور منشیات کے استعمال پر پابندی

ڈائریکٹوریٹ آف کالج ایجوکیشن کراچی کے مطابق کالجز میں تمباکو اور منشیات کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ 

اس حوالے سے کراچی سے جاری نوٹیفیکشن کے مطابق کالجز میں سگریٹ، ویپ، نکوٹین پاؤچ، پان اور گٹکے کے استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ 

ڈائریکٹوریٹ آف کالج ایجوکیشن کے مطابق کالجز میں سگریٹ نوشی اور منشیات پر پابندی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ پرنسپل کو کالج کی حدود میں منشیات سے پاک ماحول یقینی بنانا ہوگا۔

ڈائریکٹوریٹ آف کالج ایجوکیشن کے مطابق کالجز کے اطراف میں تمباکو و منشیات روکنے کے لیے ڈپٹی کمشنرز کو بھی مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: کالجز میں تمباکو اور منشیات کے استعمال پر پابندی
  • دنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم