عالمی جوہری طاقتوں کی فہرست اور ہتھیاروں کی تعداد
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 17 جون 2025ء) دنیا میں اس وقت نو ممالک ایسے ہیں، جو یا تو جوہری ہتھیار رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں یا جن کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ ایسے ہتھیار رکھتے ہیں۔
پانچ تسلیم شدہ جوہری طاقتیںیہ وہ ممالک ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے جوہری ہتھیار بنائے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت قانونی طور پر جوہری طاقتیں تسلیم کیے جاتے ہیں۔
ان میں امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں۔ یہ پانچوں ممالک این پی ٹی پر دستخط کر چکے ہیں۔ اس معاہدے کے رکن ممالک جوہری اسلحے کی تخفیف کے لیے نیک نیتی سے مذاکرات کے پابند ہیں اور دیگر ممالک کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کی کوششیں کرنے کے پابند بھی۔(جاری ہے)
دو ایسی جوہری طاقتیں بھی ہیں، جنہوں نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے۔
یہ ممالک بھارت اور پاکستان ہیں۔ یہ دونوں حریف ہمسایہ ممالک این پی ٹی سے باہر ہیں لیکن کھلے عام اپنی جوہری صلاحیت کا اعتراف کرتے ہیں۔ اسرائیل غیر تسلیم شدہ مگر معروف جوہری طاقتاسرائیل نے کبھی سرکاری طور پر اپنے پاس جوہری ہتھیاروں کے ہونے کا اعتراف نہیں کیا لیکن عالمی سطح پر اسے ایک جوہری ریاست سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل بھی این پی ٹی کا دستخط کنندہ ملک نہیں ہے۔
شمالی کوریا کی این پی ٹی سے علیحدگی اور بارہا تجرباتشمالی کوریا نے 1985 میں این پی ٹی میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن 2003 میں یہ کہہ کر وہ اس معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا کہ امریکہ اس کے ساتھ دشمنی کا برتاؤ کر رہا تھا۔ شمالی کوریا 2006 ء سے لے کر اب تک کئی جوہری تجربات کر چکا ہے۔
ایرانی جوہری پروگرامایران این پی ٹی کا رکن ہے اور اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
اگرچہ امریکی انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت جوہری بم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا لیکن حالیہ برسوں میں اس نے یورینیم کی 60 فیصد تک افزودگی کی ہے، جو ہتھیار بنانے کے قابل معیار یعنی 90 فیصد کے کافی قریب ہے۔اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) کی جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا کی نو جوہری ریاستوں کے پاس رواں برس جنوری تک درج ذیل تعداد میں فوجی مقاصد کے لیے جوہری ہتھیار موجود تھے۔
روس: 4,309
امریکہ: 3,700
چین: 600
فرانس: 290
برطانیہ: 225
بھارت: 180
پاکستان: 170
اسرائیل: 90
شمالی کوریا: 50
شکور رحیم، اے پی کے ساتھ
ادارت: مقبول ملک
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جوہری ہتھیار شمالی کوریا
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔