UrduPoint:
2026-07-24@05:10:18 GMT

عالمی جوہری طاقتوں کی فہرست اور ہتھیاروں کی تعداد

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

عالمی جوہری طاقتوں کی فہرست اور ہتھیاروں کی تعداد

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 17 جون 2025ء) دنیا میں اس وقت نو ممالک ایسے ہیں، جو یا تو جوہری ہتھیار رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں یا جن کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ ایسے ہتھیار رکھتے ہیں۔

پانچ تسلیم شدہ جوہری طاقتیں

یہ وہ ممالک ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے جوہری ہتھیار بنائے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت قانونی طور پر جوہری طاقتیں تسلیم کیے جاتے ہیں۔

ان میں امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں۔ یہ پانچوں ممالک این پی ٹی پر دستخط کر چکے ہیں۔ اس معاہدے کے رکن ممالک جوہری اسلحے کی تخفیف کے لیے نیک نیتی سے مذاکرات کے پابند ہیں اور دیگر ممالک کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کی کوششیں کرنے کے پابند بھی۔

(جاری ہے)

دو ایسی جوہری طاقتیں بھی ہیں، جنہوں نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے۔

یہ ممالک بھارت اور پاکستان ہیں۔ یہ دونوں حریف ہمسایہ ممالک این پی ٹی سے باہر ہیں لیکن کھلے عام اپنی جوہری صلاحیت کا اعتراف کرتے ہیں۔ اسرائیل غیر تسلیم شدہ مگر معروف جوہری طاقت

اسرائیل نے کبھی سرکاری طور پر اپنے پاس جوہری ہتھیاروں کے ہونے کا اعتراف نہیں کیا لیکن عالمی سطح پر اسے ایک جوہری ریاست سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل بھی این پی ٹی کا دستخط کنندہ ملک نہیں ہے۔

شمالی کوریا کی این پی ٹی سے علیحدگی اور بارہا تجربات

شمالی کوریا نے 1985 میں این پی ٹی میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن 2003 میں یہ کہہ کر وہ اس معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا کہ امریکہ اس کے ساتھ دشمنی کا برتاؤ کر رہا تھا۔ شمالی کوریا 2006 ء سے لے کر اب تک کئی جوہری تجربات کر چکا ہے۔

ایرانی جوہری پروگرام

ایران این پی ٹی کا رکن ہے اور اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اگرچہ امریکی انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت جوہری بم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا لیکن حالیہ برسوں میں اس نے یورینیم کی 60 فیصد تک افزودگی کی ہے، جو ہتھیار بنانے کے قابل معیار یعنی 90 فیصد کے کافی قریب ہے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) کی جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا کی نو جوہری ریاستوں کے پاس رواں برس جنوری تک درج ذیل تعداد میں فوجی مقاصد کے لیے جوہری ہتھیار موجود تھے۔

روس: 4,309

امریکہ: 3,700

چین: 600

فرانس: 290

برطانیہ: 225

بھارت: 180

پاکستان: 170

اسرائیل: 90

شمالی کوریا: 50

شکور رحیم، اے پی کے ساتھ

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جوہری ہتھیار شمالی کوریا

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل