نادرا نے شناختی کارڈ بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان کردی ، جس سے لمبی قطاروں میں نہیں لگنا پڑے گا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے شہریوں کو بڑی سہولت دیتے ہوئے نادرا نے بائیکر سروس 3 سے بڑھا کر 8 کردی۔
ڈی جی عامرعلی خان نے بتایا کہ کراچی کے تمام اضلاع میں بائیکر سروس کے ذریعے شناختی کارڈ کی تجدید اور دیگر سہولیات دستیاب ہے۔
عامرعلی خان کا کہنا تھا کہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ کی آگاہی کیلئے کراچی میں روڈ شو کا انعقاد کیا گیا جبکہ یونیورسٹی، اسکولز، شاپنگ مالز میں پاک آئی ڈی مہم شروع کر دی گئی۔.


انھوں نے بتایا کہ پاک آئی ڈی کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ، تکنیکی مسائل حل کر دیے گئے۔
یاد رہے پاکستان کی نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ایک نئی موبائل ایپ پاک آئی ڈی متعارف کرائی تھی ، جو آپ کے اسمارٹ فون کو ورچوئل نادرا آفس میں تبدیل کر دیتی ہے۔
شہری پاک آئی ڈی موبائل ایپ سے آن لائن شناختی کارڈ بنواسکتے ہیں اور صارفین فنگر پرنٹس کے بجائے چہرے سے اپنی شناخت کی تصدیق کرسکتے ہیں۔
پاک آئی ڈی موبائل ایپ صارفین کو شناختی دستاویزات کے اجراء اور تجدید سمیت مختلف ضروری خدمات تک رسائی کی اجازت دیتی ہے۔
وقع ہے کہ نادرا کے نئے اقدام سے لاکھوں شہریوں کو فائدہ پہنچے گا، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں، جہاں نادرا کے دفاتر تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: شناختی کارڈ موبائل ایپ پاک آئی ڈی

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار