ایران اسرائیل جنگ؛ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 4 فیصد اضافے بعد جنوری کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق خام تیل کی قیمت 74.84 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جو رواں سال کی بلند ترین سطح ہے۔
علاوہ ازیں امریکی خام تیل (U.S. oil futures) میں اس مہینے اب تک 23 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
اسی طرح برینٹ کروڈ جو کہ عالمی معیار کا تیل ہے۔ اس کی قیمتوں میں بھی 4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
ایران اسرائیل جنگ کے علاوہ خلیج عمان میں دو تیل بردار جہازوں کے تصادم کے بعد دنیا کے سب سے اہم تیل بردار بحری راستے "آبنائے ہرمز" کے حوالے سے بھی خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
توانائی مارکیٹ کے ماہر رابرٹ یاوگر نے سی این این کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کبھی بند نہیں ہوئی، حتیٰ کہ 1980 کی دہائی میں ایران-عراق جنگ کے دوران بھی یہ کھلی رہی۔
انھوں نے مزید کہا کہ تاہم دو تیل بردار جہازوں کے تصادم اور آگ لگنے کے واقعے نے یہ خدشہ بڑھا دیا ہے۔ اگر ایران اسرائیل کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یہ صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھنے کا امکان ہے جس سے عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ پہلے روس یوکرین اور اب ایران اسرائیل جنگ نے دنیا میں غیر یقینی صورت حال کو جنم دیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس صورت حال میں دنیا کو جہاں مہنگائی کا سامنا ہے وہیں خوراک کی کمی کا خدشہ بھی لاحق ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران اسرائیل تیل کی
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔