ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 4 فیصد اضافے بعد جنوری کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق خام تیل کی قیمت 74.84 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جو رواں سال کی بلند ترین سطح ہے۔

علاوہ ازیں امریکی خام تیل (U.S. oil futures) میں اس مہینے اب تک 23 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

اسی طرح برینٹ کروڈ جو کہ عالمی معیار کا تیل ہے۔ اس کی قیمتوں میں بھی 4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

ایران اسرائیل جنگ کے علاوہ خلیج عمان میں دو تیل بردار جہازوں کے تصادم کے بعد دنیا کے سب سے اہم تیل بردار بحری راستے "آبنائے ہرمز" کے حوالے سے بھی خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

توانائی مارکیٹ کے ماہر رابرٹ یاوگر نے سی این این کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کبھی بند نہیں ہوئی، حتیٰ کہ 1980 کی دہائی میں ایران-عراق جنگ کے دوران بھی یہ کھلی رہی۔

انھوں نے مزید کہا کہ تاہم دو تیل بردار جہازوں کے تصادم اور آگ لگنے کے واقعے نے یہ خدشہ بڑھا دیا ہے۔ اگر ایران اسرائیل کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یہ صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھنے کا امکان ہے جس سے عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ پہلے روس یوکرین اور اب ایران اسرائیل جنگ نے دنیا میں غیر یقینی صورت حال کو جنم دیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس صورت حال میں دنیا کو جہاں مہنگائی کا سامنا ہے وہیں خوراک کی کمی کا خدشہ بھی لاحق ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایران اسرائیل تیل کی

پڑھیں:

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔

مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ

 ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔

سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی