امریکی صدر نے تاریخ میں پہلی بارکسی ملک کے آرمی چیف سے ملاقات کی
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن:پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات اپنی نوعیت کی منفرد ملاقات ہے۔
کسی بھی امریکی صدر نے تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی ملک کے آرمی چیف سے اس طرح براہ راست ملاقات کی اور اسے ظہرانے پر مدعو کیا ہے۔
اس سے قبل جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور صدارت میں امریکی صدور سے ملاقاتیں کیں لیکن وہ ملاقات بحیثیت صدر تھی۔
آرمی چیف کی اس اندز سے امریکی صدر سے ملاقات جبکہ سویلین لیڈرشپ موجود نہ ہو اور صرف آرمی چیف کو مدعو کیا گیا ہے یہ اپنی نوعیت کی پہلا واقعہ ہے۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی واشنگٹن کا دورہ کیا تھا، تاہم وہ ملاقاتیں دفاعی نوعیت کی تھیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر وہ پہلے فوجی سربراہ ہیں جنھوں نے وائٹ ہاﺅس میں امریکی صدر سے اس سطح پر براہ راست ملاقات کی ہے۔
دریں اثنا فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر وائٹ ہاو ¿س گئے جہاں انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں آئی ایس آئی چیف سمیت ٹرمپ انتظامیہ کےاہم عہدیدار بھی شامل تھے۔
پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ کو وائٹ ہاو ¿س مدعوکرنا امریکی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی اسٹریٹجک ترجیح کاواضح اشارہ ہے، ملاقات اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکا علاقائی استحکام کےلیے پاکستان کے کردار سے بخوبی واقف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی صدر سے ملاقات ملاقات کی آرمی چیف
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔