نیشنز ہاکی کپ؛ سیمی فائنل میں پہنچنے والی ٹیم کے پلئیرز یومیہ الاؤنس سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
نیشنز ہاکی کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنیوالی پاکستانی ٹیم کے پلئیرز تاحال یومیہ الاؤنس سے محروم ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ملائیشیا میں جاری میں نیشنز ہاکی کپ میں شریک پاکستانی ٹیم کے پلئیرز کو 10 روز کے ایک دن کا بھی یومیہ الاؤنس ادا نہیں کیا۔
ایونٹ میں پاکستان نے میزبان ملائیشیا کیساتھ میچ ڈرا کیا، جاپان کو شکست دی جبکہ نیوزی لینڈ کیخلاف سنسنی خیز مقابلے میں گرین شرٹس کا شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے نیشنز ہاکی کپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنالی
تاہم اسکے باوجود قومی ٹیم نے ایونٹ کے سیمی فائنل تک رسائی کو ممکن بنایا۔
گرین شرٹس اگر ایونٹ کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو انہیں ہاکی پرو لیگ کھیلنے کا سنہری موقع مل جائے گا۔
مزید پڑھیں: نیشنز ہاکی کپ؛ نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 3-4 سے ہراکر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کو کھلاڑیوں کیساتھ ناروا سلوک پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیشنز ہاکی کپ سیمی فائنل
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔