ایئر بلیو نے آپریشنز کے 21 سال مکمل کر لیے
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( کامر س رپورٹر)پاکستان کی سب سے بڑی نجی ایئر لائن ایئر بلیو نے اپنے فضائی آپریشنز کے 21سال مکمل کرلئے ہیں۔ایئر بلیو اپنے آپریشنز کے آغاز سے مسافروں کو ملکی اور بین الاقوامی روٹس پر مثالی اور معیاری سروس فراہم کررہی ہے ۔ایئر بلیو نے محض2024میں 11ہزار سے زائد پروازیں چلائیں ،ایئر لائن اپنے بڑھتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی نیٹ ورک پر 20 لاکھ سے زیادہ مسافروں کو سفری خدمات فراہم کر رہی ہے۔نیو جنریشن کے A321neo طیارے رکھنے والی پاکستا ن کی واحد ایئر لائن کے طور پر ایئر بلیو اپنے فضائی بیڑے کو جدید خطور پر استوار کرنے اور ایندھن کی بچت کے حوالے سے سرمایہ کاری جاری رکھی ہوئی ہے ۔ اپنے فریکوینٹ فلائر ریوارڈز پروگرام، مسابقتی کرایہ کے ڈھانچے، اور کلیدی راستوں پر روزانہ کی متعدد تعددات کے ساتھ، ایئر لائن اپنے مسافروں کو قدر اور سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ایئر بلیو نے حال ہی میںکراچی سے اسکردو کیلئے بھی براہ راست پروازوں کا آغاز کیا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایئر بلیو نے ایئر لائن
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔