جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ اسرائیل کی طرف سے جارحیت کو غیرمشروط طور پر روکنا ہے، ایرانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کی طرف سے غیرمشروط طور پر جارحیت روکنے کو جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ قرار دیا ہے۔
جمعہ کو ایکس اکاؤنٹ پر اپنے پیغام میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ امن اور سکون کی خواہش کی ہے، لیکن موجودہ حالات میں جنگ کے خاتمے کا واحد طریقہ غیرمشروط طور پر جنگ بندی ہے اور دشمن کے حملوں کے مستقل خاتمے کے لیے ناقابلِ شکست ضمانتیں درکار ہیں۔
ایرانی صدر نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی حکومت کی جارحیت کو روکا نہ گیا تو ایران زیادہ سے زیادہ سخت جواب دے گا جس سے حملہ آور کو شرمندگی کا سامنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیلی جارحیت جاری رہی تو خطہ کبھی پائیدار امن نہیں دیکھ سکے گا، ایرانی صدر
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے میزائل یا دفاعی صلاحیتوں پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جمعے کو جنیوا میں یورپی نمائندوں سے ہونے والے مذاکرات صرف ایٹمی پروگرام اور علاقائی معاملات تک محدود رہیں گے۔
ایرانی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ وہ جنیوا صرف ایٹمی اور علاقائی مسائل پر بات چیت کے لیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایرانی صدر کی عوام سے صبر کی اپیل، جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تردید
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے میزائل پروگرام پر کسی سے بات نہیں کرے گا۔
عراقچی نے کہا کہ ایران کے میزائل سسٹم کا مقصد ملک کا دفاع کرنا اور دشمنوں کو روکنا ہے، اور ان دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران اسرائیل جنگ 2025 کشیدگی مشرقی وسطیٰ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران اسرائیل جنگ 2025 کشیدگی ایرانی صدر کہ ایران کہا کہ
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔