اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایس آئی ایف سی کے تعاون سے فری لانسرز کے لیے ‘پے پال’ کے ذریعے رقوم کی آسان وصولی ممکن بنائی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ایس آئی ایف سی کا دوسرا سال مکمل ہوگیا ، جس میں آئی ٹی و ٹیلی کام شعبے میں تاریخی کامیابیاں حاصل ہوگئیں۔

اپنے قیام کے دوسرے برس میں ایس آئی ایف سی پاکستان کے آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر کو عالمی سطح پر روشناس کرانے میں کامیاب ہوگئی۔

ڈیجیٹل پاکستان پروگرام میں ‘گوگل’، ‘مائیکروسافٹ’، اور ‘سیسکو’ جیسی بی۔ الاقوامی کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے آئی ٹی سیکٹر میں انقلاب لایا گیا۔

اس کے ساتھ 2 لاکھ یونیورسٹی گریجویٹس کو ‘آئی ٹی اسکلز ٹریننگ’ سے روزگار کے قابل بنانے کا منصوبہ فعال ہوگیا۔

چین کے ساتھ 5 سالہ ٹیکنالوجی و ‘اسکلز ٹرانسفر’ معاہدہ، صنعتی جدت کا آغاز ہوا جبکہ ملک بھر میں 10 ہزار ای روزگار مراکز کے منصوبے سے ہر سال 50 ہزار فری لانسرز کو سہولیات میسر آگئیں۔

فری لانسرز کے لیے ‘پے پال’ کے ذریعے رقوم کی آسان وصولی ممکن بنائی گئی ہے۔

بین الاقوامی لین دین کے لیے آئی ٹی کمپنیوں کو نئی سہولیات، اسپیشل فارن کرنسی اکاؤنٹس کا آغاز ہوا۔

ایس آئی ایف سی کی سرپرستی میں ‘اسٹارٹ اپس’ کو عالمی سطح پر رسائی، تجربہ اور سرمایہ کاری کی سہولت حاصل ہے۔

ایس آئی ایف سی کے تحت ملک بھر میں 43 جدید آئی ٹی پارکس فعال، نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کئے گئے۔

اسلام آباد اور کراچی میں بڑے آئی ٹی پارکس کی تعمیر جاری ہے، ایس آئی ایف سی کے تحت ڈیجیٹل معیشت کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا عزم ہے۔

قومی ‘فائبر پالیسی’ سے ملک گیر ‘کنیکٹیویٹی’، ڈیجیٹل معاشی ترقی کی راہ ہموار ہوگئی، 6GHz اسپیکٹرم اور Wi-Fi 6E 10 کے آغاز ست پاکستان دنیا کے سرکردہ ممالک میں شامل ہیں۔

پاکستان میں 4G کوریج کا دائرہ وسیع کردیا ہے، جس سے 81 فیصد آبادی کو جدید کنیکٹیویٹی میسر ہوگئی۔

پاکستان میں 15 لاکھ سے زائد فری لانسرز سرگرمِ عمل، آئی ٹی برآمدات 3.

2 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں، اقدامات نے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی بنیاد مضبوط کر دی ہے۔
مزید پڑھیں : فنانس بل، اعلیٰ سطح اختیاراتی کمیٹی قائم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ایس آئی ایف سی فری لانسرز آئی ٹی کے لیے

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ