تل ابیب پر ایران کے حملے سے آنکھوں کو ٹھنڈک ملی، منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ قبلہ اول کی آزادی ہم سب پر قرض ہے، ہزاروں شہدا کا خون اس جدوجہد میں شامل ہے، اہل غزہ سب سربکف ہیں، اس قربانی نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جن کے ضمیر زندہ ہیں ان کو فلسطین کے مسلمانوں نے بیدار کردیا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں کشمکش جاری ہے اور یہی کشمکش کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ہے، اس کشمکش اور اہل غزہ کی مزاحمت نے فلسطین اور قبلہ اول کی آزادی کے مسئلے کو پوری دنیا میں زندہ مسئلہ بنادیا ہے، اللہ کی کبریائی بلند کرنا ہی دراصل کامیابی ہے، اسرائیل نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم واضح کیے اور ایران پر بلا جواز حملہ کیا، ایران نے اللہ کے بھروسے پر اسرائیل کو جواب دیا، تل ابیب پر حملے سے آنکھوں کو ٹھنڈک ملی، پاک بھارت جنگ میں اللہ کے فضل سے کامیابی ملی، بنگلا دیش میں ظلم و ستم کا خاتمہ بھی اللہ کی مہربانی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع سائٹ غربی کے تحت مہم چرم قربانی میں حصہ لینے والے کارکنان کے اعزاز میں استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے چرم قربانی مہم میں حصہ لینے والے تمام کارکنان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضلع سائٹ غربی نے پورے کراچی میں فیصد کے لحاظ سے کھالوں میں سب سے زیادہ اضافہ کیا اور خدمت کی مثال قائم کی، سنت ابراہیمی کا مقصد اپنی عزیز چیز کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا درس ہے، انسان مال اور اولاد سے زیادہ محبت کرتا ہے، اللہ کی اطاعت کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے مسلمانوں نے قربانی کی ایسی مثال کی ہے جس کی تاریخ میں کہیں مثال نہیں ملتی یہ فرض پوری امت کو ادا کرنا تھا، قبلہ اول کی آزادی ہم سب پر قرض ہے، ہزاروں شہدا کا خون اس جدوجہد میں شامل ہے، اہل غزہ سب سربکف ہیں، اس قربانی نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جن کے ضمیر زندہ ہیں ان کو فلسطین کے مسلمانوں نے بیدار کردیا، پوری دنیا سراپا احتجاج ہے، اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ سنوار کے پورے خاندان قربان ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ