—فائل فوٹو

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں عوامی فلاح کےلیے کئی اقدامات کیے ہیں۔

سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے زر مبادلہ میں اضافہ کیا، افراط زر کم ہوا، وفاقی اخراجات 1.9 فیصد بڑھے جو ماضی میں 12 فیصد تک رہا۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ درآمد سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس کا فیصلہ مقامی صنعت کو فروغ دینے کے لیے تھا، اب درآمد شدہ سولر پینلز پر ٹیکس 18 سے کم کر کے 10 فیصد کیا۔

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس میں کمی کی تجویز منظور کرلی

اجلاس میں انکم ٹیکس تجاویز کی شق وار منظوری پر غور کیا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ درآمدی سولر پینلز پر ذخیرہ انداوزی کی اطلاعات ملی ہیں، سولر پینلز کی قیمتوں میں پہلے ہی اضافہ کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا بجٹ 716 ارب کیا، ایک کروڑ افراد کو مالی مدد ملے گی، فراڈ کیسز میں ایف بی آر کے اختیارات سے متعلق سیف گارڈ شامل کی تاکہ اختیارات کا ناجائز استعمال نہ ہو، ایف بی آر کے اختیارات سے متعلق بعض نکات کو واضح کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اُمید ہے سینیٹ کی 50 فیصد سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنائیں گے، استحکام پڑاؤ ہے، منزل نہیں، ہماری کوشش پائیدار ترقی کا حصول ہے۔

محمد اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ ریاست تنخواہ دار طبقے کو بوجھ تلے دبانا نہیں چاہتی، سرکاری ملازم کی تنخواہ میں10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب سولر پینلز نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔

وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔

پاکستان اے آئی میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کیلئے تیار ہے: شہباز شریف

نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم