بھارت دنیا میں سفر کرنے والا خطرناک ملک بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
حال ہی جاری کردہ نئی فہرست میں بھارت دنیا میں سفر کرنے والے خطرناک ترین ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کو دنیا میں سفر کرنے والے خطرناک ممالک میں شامل کرنے کا بڑا سبب اس میں سماجی تشدد، مسلح جھڑپیں، دہشت گردی کا خطرہ، فضائی آلودگی، سڑکوں کی خراب صورتِ حال اور خواتین پر جنسی تشدد اور متعدد خطوں میں جاری بحران شامل ہے۔
بھارت میں سفر کرنے کے خطرات کا اسکور مجموعی طور پر 77.
امریکا نے بھارت کو "Level 2: Exercise Increased Caution" قرار دیا ہے، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر اور دیگر شورش زدہ علاقوں کے حوالے سے۔
یورپی ممالک، کینیڈا، آسٹریلیا وغیرہ نے بھی اپنے شہریوں کو بھارت میں سفر کرنے پر خبردار کیا ہے، خاص طور پر خواتین کے لیے خطرات کی موجودگی کیوجہ سے۔
بھارت ڈرائیونگ کے اعتبار سے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے جہاں ہزاروں سڑک حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اسکے علاوہ ماحولیاتی اور صحت کے خطرات بھی یہاں دوسرے ممالک سے زیادہ ہیں۔ خاص طور پر دہلی اور بڑے شہروں کی فضائی آلودگی انتہائی خراب ہے جو صحت اور سفر دونوں کے لیے خطرناک ہے۔
خواتین کے لیے خطرات کی بات کی جائے تو جنسی تشدد اور عصمت دری کے واقعات شدید تشویش کا باعث ہیں یہاں تک کہ غیرملکیوں کیلئے بھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔