مودی سرکار کی پراپیگنڈہ فیکٹریاں سرگرم (صدر ٹرمپ کو نشانے پر لے لیا)
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
سفارتی ناکامیوں کے بعد اب بھارت جھوٹے پراپیگنڈے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے
یہ سمجھ سے باہر ہے بھارت ٹرمپ سے خطرناک جھوٹ کیوں منسوب کر رہا ہے؟ مبصرین
مودی سرکار کی پراپیگنڈہ فیکٹریاںسرگرم ، امریکہ کے صدر ٹرمپ کو نشانے پر لے لیا ۔تفصیلات کے مطابق معرکۂ حق کے دوران عالمی منظر نامے پر حالیہ رسوائی اور تذلیل کے باوجود،مودی سرکار کی پراپیگنڈہ اور جعلی خبریں بنانے والی فیکٹریاں ایک بار پھر سرگرم ہو چکی ہیں ۔ بھارتی حکومت کے زیر اہتمام پروپیگنڈہ اور جعلی خبریں بنانے والی فیکٹریاں سراسر جھوٹ اور من گھڑت خود ساختہ کہانیاں پھیلانے میں مصروف ہیں ۔ سفارتی اور سیاسی سطح پرمسلسل ناکامیوں کے بعد اب بھارت جھوٹے پراپیگنڈے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ بھارت امریکہ کے صدر ٹرمپ سے خطرناک جھوٹ کیوں منسوب کر رہا ہے؟ جبکہ ایک طرف سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر خود کو پیش کرتا ہے اور دوسری طرف بدترین خفیہ دشمن۔ ایران، اسرائیل جنگ کی وجہ سے خطہ پہلے ہی غیر مستحکم ہے، جبکہ بھارت امریکی قیادت کو زیرکرنے کا کوئی موقع نہیں گنواتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کر رہا ہے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :