ترجمان سندھ حکومت و میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔

شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کی 72ویں سالگرہ کے موقع پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سکھر کے شہریوں کو تحفہ دیا ہے، گڈانی پھاٹک پر شہید محترمہ بےنظیر بھٹو فلائی اوور کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا۔

ترجمان سندھ حکومت و میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا، جس پر 1.

5 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔

منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت و میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایات پر شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر سکھر کے شہریوں کے لیے ایک بڑا ترقیاتی تحفہ پیش کیا جا رہا ہے، جس میں فلائی اوور اور جدید سڑکوں کی تعمیر شامل ہے ، یہ صرف ایک ترقیاتی اسکیم نہیں، بلکہ سکھر کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔

ترجمان سندھ حکومت و میئر سکھر نے منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی سی ایل ایکسچینج سے گڈانی پھاٹک تک 700 فٹ طویل اور 40 فٹ چوڑا فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا، اس منصوبے میں 3.8 کلو میٹر طویل جدید سڑکوں کی تعمیر و مرمت شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں گڈانی پھاٹک تا بھوسہ لائن چوک تک 60 فٹ چوڑی سڑک، نمائش چوک (چڑیا گھر) تا قریشی گوٹھ 40 فٹ چوڑی سڑک، میرانی محلہ تا رِنگ روڈ 30 فٹ چوڑی سڑک، پیر مراد شاہ تا مائیکرو کالونی 24 فٹ چوڑی سڑک اور شکار پور پھاٹک تا قریشی روڈ 70 فٹ سڑک کا مرمتی کام شامل ہے۔ 

ترجمان سندھ حکومت و میئر سکھر نے کہا کہ یہ فلائی اوور اور سڑکیں بھوسہ لائن، مائیکرو کالونی، قریشی گوٹھ جیسےپس ماندہ علاقوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بےنظیر بھٹو فلائی اوور اور ڈیوئل کیریج وے کی تعمیر کا یہ منصوبہ ناصرف سکھر کی ترقی کا نیا باب ہے بلکہ ایک عوامی خواب کی تعبیر ہے، یہ وہ خواب ہے جو برسوں سے پرانا سکھر اور قریشی گوٹھ کے عوام دیکھ رہے تھے، یہ فلائی اوور 2 بڑے تعلقوں کو آپس میں جوڑے گا، جس سے 3 لاکھ سے زائد شہری براہِ راست مستفید ہوں گے۔

میئر سکھر نے کہا کہ سکھر میں ایک جدید چڑیا گھر بھی زیرِ تعمیر ہے، جو ناصرف اہلِیان سکھر کے لیے تفریح کا نیا مرکز بنے گا، بلکہ اس علاقے کو خوش حال، محفوظ اور جدید شہری ماحول فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کی 72ویں سالگرہ کے موقع پر سکھر کے شہریوں کے لیے یہ تحفہ ہے۔ محترمہ بےنظیر بھٹو نے اپنی پوری زندگی عوامی حقوق کی جدو جہد کے لیے وقف کر دی تھی، وہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم تھیں اور پہلی مسلمان خاتون تھیں جو  آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کی صدر رہیں۔

میئر سکھر نے کہا کہ محترمہ بےنظر بھٹو شہید نے آمرانہ دور میں ظلم کا مقابلہ کیا، جیلوں کی صعوبتیں جھیلیں، لیکن جمہوریت کی جنگ لڑتی رہیں اور اپنے عظیم والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کو آگے بڑھایا، پاکستان پیپلز پارٹی شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کے وژن اور احد کے مطابق عوامی خدمت جاری رکھے گی۔

اس موقع پر ترجمان سندھ حکومت و میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے سکھر کے شہریوں کے ہمراہ شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کی 72ویں سالگرہ کا 100 پاؤنڈ کا کیک بھی کاٹا اور ان کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ترجمان سندھ حکومت و میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے بےنظیر بھٹو کی 72ویں سالگرہ شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کی سکھر کے شہریوں میئر سکھر نے فلائی اوور بلاول بھٹو نے کہا کہ کی تعمیر کے لیے کا سنگ

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری