امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاک بھارت کشیدگی میں جنگ بندی کے دعوے پر بھارتی حکومت اور میڈیا تاحال سیخ پا ہیں، بھارتی حکومت اور میڈیا کی جانب سے اس بات کو لیکر امریکی صدر کی کردار کشی کی جا ری ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا 10 مئی کو ایکس پوسٹ کے ذریعے پاک بھارت جنگ بندی کا اعلان کرتے ہی بھارتی میڈیا اینکر ارناب گوسوامی نے امریکی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

ارناب گوسوامی نے اپنے پروگرام میں کہا کہ ’’ٹرمپ اپنا بیانیہ بیچ رہا ہے، یہ شخص اسرائیل، حماس اور روس یوکرین کے درمیان جنگ بندی نہیں کروا سکا، ٹرمپ کی ریٹنگ گر رہی ہے تو یہ پوائنٹ اسکورننگ کر رہا ہے۔‘‘

بھارتی جماعت ’’عام آدمی پارٹی‘‘ نے بھی سوال اٹھایا کہ امریکی صدرکا کیا کام ہے کہ وہ جنگ بندی کرائے۔ راجھستان کے سابق ڈپٹی وزیراعلیٰ سچن پائلٹ نے ٹرمپ سے یہ سوال بھی کیا کہ وہ دہشتگردی پر خاموش کیوں ہیں؟ بھارتی میڈیا میں ٹرمپ کا یہ بیان بھی چلایا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے جنگ بندی نہیں کرائی بلکہ مدد کی ہے۔

ارناب گوسوامی کا کہنا تھا کہ 28 اپریل کے بعد صدر ٹرمپ کی پوزیشن بدلی اور وہ پاکستان کا سپورٹر بن گیا۔

بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈا کا مطابق ’’ورلڈ لیبرٹی فنانشنل پاکستان کے ساتھ کرپٹو معاہدے میں شریک ہے، ورلڈ لیبرٹی فنانشل اور پاکستان کرپٹو کونسل کے درمیان یہ معاہدہ 26 اپریل یعنی پہلگام واقعے کے 4 روز بعد ہوا۔

بھارتی میڈیا نے صدر ٹرمپ کی فیملی کے حوالے سے بھی الزام لگایا کہ کیا یہ کرپٹو معاہدے سے فائدہ نہیں اٹھا رہے؟ بھارتی میڈیا نے بغیر شواہد یہ الزام بھی عائد کیا کہ صدر ٹرمپ کے کرپٹو بزنس کو پاکستانی آرمی جنرل نے سنبھال رکھا ہے۔ بھارتی میڈیا کے الزام کے مطابق کور کمانڈر کے بھتیجے کا صدر ٹرمپ کو منانے یا راضی کرنے میں بڑا کردار ہے جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد بھارتی میڈیا مزید بدحواس ہو گیا ہے۔

ارناب گوسوامی نے صدر ٹرمپ کی جانب سے I LOVE PAKISTAN کہنے پر انہیں پاک فوج کا کارکن کہہ دیا۔ ارناب گوسوامی نے یہاں تک کہا کہ صدر ٹرمپ اور اس کی فیملی کے کرپٹو معاہدے پر تحقیقات کی جائیں۔

بھارتی سوشل میڈیا پر امریکی صدر کو نوبیل پرائز کے حوالے سے بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ بھارتی سوشل میڈیا پر ان کے کارٹون بنا کر دہشتگرد کا ساتھی ظاہر کیا گیا۔ بھارتی میڈیا نے صدر ٹرمپ کو ایک مریض کے طور پر پیش کیا جبکہ بھارتی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ ایک ناکام سیاست دان ہے اور یہ شخص صدر نہیں ہونا چاہیے۔

بھارتی سیاست دان نے کہا کہ امریکی صدر نے بھارت کو بہت زیادہ ناراض کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی صدر پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ خود لینا چاہتے ہیں مگر یہ ممکن نہیں ہے۔ امریکی صدر کو کچھ بھی پتہ نہیں انہیں زمینی حقائق تک معلوم نہیں اور وہ خود کو گلوبل پیس میکر ثابت کر رہا ہے، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا اعتبار کیا جائے اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔

سیکریٹری خارجہ وکرم مسری کے مطابق ’’مودی نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ بندی میں ٹرمپ کا کوئی کردار نہیں تھا۔‘‘

بھارتی ایکس اکاؤنٹ پر بھی ٹرمپ کے حوالے سے کہا گیا کہ ایک روز ٹرمپ کہتا ہے اس کا اسرائیل کے ایران حملے سے کوئی تعلق نہیں اور دوسرے روز امریکا کہتا ہے کہ ان کا ایران کی فضا پر مکمل کنٹرول ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی میزبانی کرکے بھارت کے دعوؤں کی نفی کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاک بھارت جنگ بندی ارناب گوسوامی نے بھارتی میڈیا کے امریکی صدر ٹرمپ صدر ٹرمپ کی کی صدر ٹرمپ کے مطابق ٹرمپ کا

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل