کالام کشتی حادثہ، جاں بحق افراد کی تعداد 4 ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
—فائل فوٹو
کالام کشتی حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 4 ہو گئی۔
اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان سعید الرحمٰن کے مطابق ایک بچہ اب بھی لاپتہ ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق افراد کا تعلق شر گڑھ مردان سے ہے۔
اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان سعید الرحمٰن نے بتایا ہے کہ جاں بحق اور زخمی افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے، واقعے میں 5 افراد کو زخمی حالت میں ریسکیو کیا گیا۔
ترجمان اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق کشتی کے مالک کے پاس این او سی نہیں تھا، جس کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
واضح رہے کہ کالام کے علاقے شاہی باغ میں گزشتہ روز سیاحوں سے بھری کشتی الٹ گئی تھی، کشتی میں خواتین اور بچوں سمیت 10 افراد سوار تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔