امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران سے جنگ نہیں چاہتا بلکہ اس کا اصل ہدف ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ انہوں نے واضح کیاکہ امریکا زمینی جنگ یا حکومت کی تبدیلی میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ سفارتی عمل کے ذریعے طویل المدتی مفاہمت چاہتا ہے۔

جے ڈی وینس نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ ہماری ایران سے نہیں بلکہ اس کے جوہری پروگرام سے جنگ ہے۔ ہم نے یہ پروگرام تباہ کر دیا ہے اور آئندہ سالوں میں اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر، ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دے دی

امریکی نائب صدر نے کہاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات اور تعلقات کی بحالی کا موقع دیا تھا، اور ایران کی جانب سے بالواسطہ پیغامات بھی موصول ہوئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران بھی کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایران میں حکومت کی تبدیلی کے خواہاں نہیں، ہم طویل المدتی امن اور مفاہمت کے خواہش مند ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی بی ٹو بمبار طیاروں اور آبدوزوں کے ذریعے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر بھاری بنکر بسٹر بموں اور ٹوم ہاک میزائلوں سے حملہ کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ان حملوں کو انتہائی کامیاب قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

جے ڈی وینس نے مزید کہاکہ اگر ایران ان حملوں کے جواب میں کارروائی کرتا ہے تو امریکا تیار ہے، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا ایران میں زمینی فوج اتارنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھیں امریکا کے ایران کے خلاف آپریشن ’مڈنائٹ ہیمر‘ کی تفصیلات سامنے آگئیں

دوسری طرف ایرانی حکام نے امریکا کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔ ایرانی ذرائع کے مطابق حملے سے پہلے ہی جوہری تنصیبات کو احتیاطی تدبیر کے طور پر خالی کرا لیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ممکنہ نقصان کم ہوا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے کہا ہے کہ فردو میں نقصان سنگین نوعیت کا نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی نائب صدر ایران پر حملے جوہری پروگرام جے ڈی وینس وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی نائب صدر ایران پر حملے جوہری پروگرام جے ڈی وینس وی نیوز امریکی نائب صدر جوہری پروگرام جے ڈی وینس

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان