جوفرا آرچر کی ریڈ بال کرکٹ میں واپسی، سسیکس کا حصہ بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
انگلش فاسٹ بولر جوفرا آرچر آخر کار ریڈ بال کرکٹ میں واپسی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
جوفرا آرچر نے اتوار کو ڈرہم کیخلاف کاؤنٹی چیمپئن شپ میچ شرکت ممکن بنالی، آرچر نے مئی 2021 کے بعد سے سرخ گیند کے میچ میں واپسی کی ہے۔
اس سے قبل متعدد انجریز کے باعث ان کی واپسی مسلسل مؤخر ہوتی رہی، انہوں نے حالیہ مہینوں میں وائٹ بال کرکٹ میں انگلینڈ کی نمائندگی کی، ان کا آخری میچ مارچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف چیمپئنز ٹرافی میں تھا۔
انگلش سلیکٹر لیوک رائٹ نے کہا تھا کہ سسیکس کے میچ میں ان کی پرفارمنس دیکھ کر ہم بھارت سے ٹیسٹ سیریز میں بھی انہیں سامنے لاسکتے ہیں، کپتان بین اسٹوکس بھی 30 سالہ آرچر کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کے منتظر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔