حیدرآباد ،سابق اساتذہ سڑکوں پر نکل آئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)گورنمنٹ ریٹائرڈ ٹیچرز ایسوسی ایشن صوبہ سندھ کی کال پر سندھ بھر میں سندھ حکومت کے ریٹائرڈ ملازمین کے دیرینہ مطالبات جن میں پنشن میں 100 فیصد اضافہ، گروپ انشورنش و بنو نیل فنڈ سندھ کے تمام ریٹائرڈ ملازمین کو انکی زندگی میں ادائیگی کے لیے ضلعی ہیڈ کواٹر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ حیدرآباد میں گرتا ضلع حیدرآباد کے ضلعی صدر جناب شیف اللہ خاصخیلی کی قیادت میں حیدر آباد پریس کلب پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ایک بڑی تعداد میں ریٹائرڈ ملازمین نے شرکت کی۔ اس مظاہرے میں گر ٹا سندھ کے مرکزی صدر ضمیر خان، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محترمہ نگہت عباس نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے مطالبات کے حصول کے لیے نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے گر ٹا سندھ کے مرکزی صدر ضمیر خان نے حکومت سندھ کے رویے کی سخت مذت کرتے ہوئے کہا کہ عرصہ دراز گزرنے کے باوجو د سندھ کے ریٹائرڈ ملازمین کے دیرنیہ مسائل کو حل نہیں کر رہی ہے وہ ریٹائرڈ ملازمین کے گروپ انشورنس ان کی (GLI) و بنوئیل فنڈ (B.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریٹائرڈ ملازمین کے سندھ کے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔