کلچرل اکیڈمی کشمیر کیطرف سے سرینگر میں اردو مشاعرہ منعقد
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
مہمان خاص محترمہ رخسانہ جبین نے نئی نسل سے وابستہ شعراء کی شعری صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ابھرتے ہوئے شعراء سے مستقبل قریب میں بہت امید وابستہ ہے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
کلچرل اکیڈمی کشمیر کیطرف سے سرینگر میں اردو مشاعرہ منعقد
کلچرل اکیڈمی کشمیر کیطرف سے سرینگر میں اردو مشاعرہ منعقد
کلچرل اکیڈمی کشمیر کیطرف سے سرینگر میں اردو مشاعرہ منعقد
کلچرل اکیڈمی کشمیر کیطرف سے سرینگر میں اردو مشاعرہ منعقد
کلچرل اکیڈمی کشمیر کیطرف سے سرینگر میں اردو مشاعرہ منعقد
کلچرل اکیڈمی کشمیر کیطرف سے سرینگر میں اردو مشاعرہ منعقد
کلچرل اکیڈمی کشمیر کیطرف سے سرینگر میں اردو مشاعرہ منعقد
کلچرل اکیڈمی کشمیر کیطرف سے سرینگر میں اردو مشاعرہ منعقد
کلچرل اکیڈمی کشمیر کیطرف سے سرینگر میں اردو مشاعرہ منعقد
کلچرل اکیڈمی کشمیر کیطرف سے سرینگر میں اردو مشاعرہ منعقد
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز کے اہتمام سے آج کانفرنس روم ٹیگور ہال سرینگر میں ایک اردو مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت کہنہ مشق شاعر رفیق راز نے جبکہ ڈاکٹر نذیر آزاد بطور مہمان ذی وقار جبکہ محترمہ رخسانہ جبین بطور مہمان خاص ایوان صدارت میں موجود رہے۔ تقریب کے آغاز میں مدیر شیرازہ اردو محمد سلیم سالک نے مہمانوں کا والہانہ استقبال کیا۔ مشاعرے میں احمد ارسلان، شیخ الطاف، عامر محی الدین، عقیل فاروق، آصف عطا اللہ، تسنیم الرحمن، ہجر مومن، اقبال حیات، جاذب جہانگی، ممتاز احمد ممتاز، عطیہ رفعت، وکیل احمد حیات، راشف عظمی، سید مرتضی بسمل، پرویز گلشن، راتھر روشن آرا، منتظر رسول، فاہی کشمیری، عمر عالم، عمر فیاض اور احمد سجاد نے اپنا کلام پیش کیا جسے حاضرین کی طرف سے پذیرائی اور داد و تحسین حاصل ہوئی۔ مشاعرے کے اختتام پر آخر ڈاکٹر نذیر آزاد نے شعر و ادب کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی اور ابھرتے ہوئے شعراء کی حوصلہ افزائی کی۔مہمان خاص محترمہ رخسانہ جبین نے نئی نسل سے وابستہ شعراء کی شعری صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ابھرتے ہوئے شعراء سے مستقبل قریب میں بہت امید وابستہ ہے۔ تقریب کے اختتام پر رفیق راز نے صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے تقریب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شعر و ادب کے لوازمات اور باریکیوں پر جامع مگر پُرمغر اور بصیرت افروز گفتگو کی۔ تقریب میں سرکردہ ادیبوں، شاعروں، افسانہ نگاروں، اسکالرز اور طالب علموں کی کثیر تعداد نے شرکت کی جن ڈاکٹر جاوید رسول، شفیع احمد، مشتاق مہدی، قرت العین، اصغر رسول، ڈاکٹر عبد المجید بھدرواہی، شبیر حسین شبیر، ڈاکٹر مبارک لون، ایوب نعیم کرناہی، ناظم نذیر، عبدالرشید راہگیر، مشتاق کینی، عبدالواحد منہاس، ریحانہ شجر، غلام نبی شاہد شامل ہیں۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد اقبال لون نے انجام دئے۔ تقریب کے اختتام پر مدیر شیرازہ اردو محمد سلیم سالک نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تقریب کے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم