ایران کے بعد غزہ؟ اسرائیلی اپوزیشن نے جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد اب اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے غزہ میں بھی فوری طور پر جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سینٹر-لیفٹ ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائیر گولان نے کہا ہے کہ “اب وقت ہے کہ مشن مکمل کیا جائے: تمام یرغمالیوں کو واپس لایا جائے، غزہ کی جنگ ختم کی جائے، اور اسرائیل کو کمزور، تقسیم شدہ اور غیر محفوظ بنانے والی بغاوت کو روکا جائے۔”
اپوزیشن لیڈر یائیر لاپڈ نے بھی اسی نوعیت کی اپیل کی۔
انہوں نے ٹائمز آف اسرائیل سے بات کرتے ہوئے کہا، “اور اب غزہ… اب وہاں بھی کام مکمل کرنا ہوگا۔ یرغمالیوں کو واپس لائیں، جنگ ختم کریں۔ اسرائیل کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔”
یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے ساتھ دو طرفہ جنگ بندی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور خطے میں کشیدگی میں کمی کی امید کی جا رہی ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔