امریکا کا اربوں ڈالر کا حملہ بیکار؟ ایرانی جوہری پروگرام تباہ ہونے سے بچ گیا، پینٹاگون کی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
واشنگٹن:
ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ کی حالیہ فضائی کارروائیوں کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ نہیں ہو سکا، بلکہ ابتدائی انٹیلی جنس تجزیے کے مطابق اسے صرف چند ماہ کے لیے مؤخر کیا جا سکا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پینٹاگون کی انٹیلی جنس ایجنسی (ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی) کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایران کا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ فضائی حملوں میں مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا۔
امریکی نشریاتی ادارے نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایران کے بیشتر سینٹری فیوجز ابھی بھی محفوظ ہیں اور نقصان صرف زمینی سطح کی تنصیبات تک محدود رہا۔
امریکی فضائیہ نے فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع تین جوہری تنصیبات کو ’’بنکر بسٹر‘‘ بموں سے نشانہ بنایا، جو زمین کے 60 فٹ گہرائی یا 200 فٹ مٹی میں گھسنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم زیادہ تر زیرِ زمین تنصیبات محفوظ رہیں جبکہ داخلی راستے اور کچھ انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔
وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کی ابتدائی رپورٹ کو حقائق کے منافی اور صدر کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ ان کے احکامات پر کیے گئے حملے نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
ادھر ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں سے قبل ہی تنصیبات خالی کرا لی گئی تھیں، جبکہ اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ افزودہ یورینیم کا بڑا حصہ ملبے تلے دفن ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔