واشنگٹن:

ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ کی حالیہ فضائی کارروائیوں کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ نہیں ہو سکا، بلکہ ابتدائی انٹیلی جنس تجزیے کے مطابق اسے صرف چند ماہ کے لیے مؤخر کیا جا سکا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پینٹاگون کی انٹیلی جنس ایجنسی (ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی) کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایران کا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ فضائی حملوں میں مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا۔

امریکی نشریاتی ادارے نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایران کے بیشتر سینٹری فیوجز ابھی بھی محفوظ ہیں اور نقصان صرف زمینی سطح کی تنصیبات تک محدود رہا۔

امریکی فضائیہ نے فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع تین جوہری تنصیبات کو ’’بنکر بسٹر‘‘ بموں سے نشانہ بنایا، جو زمین کے 60 فٹ گہرائی یا 200 فٹ مٹی میں گھسنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تاہم زیادہ تر زیرِ زمین تنصیبات محفوظ رہیں جبکہ داخلی راستے اور کچھ انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔

وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کی ابتدائی رپورٹ کو حقائق کے منافی اور صدر کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ ان کے احکامات پر کیے گئے حملے نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

ادھر ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں سے قبل ہی تنصیبات خالی کرا لی گئی تھیں، جبکہ اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ افزودہ یورینیم کا بڑا حصہ ملبے تلے دفن ہو چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران