UrduPoint:
2026-07-24@05:33:57 GMT

ایران پر امریکی حملوں سے چین کو کیسے فائدہ پہنچ سکتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

ایران پر امریکی حملوں سے چین کو کیسے فائدہ پہنچ سکتا ہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 25 جون 2025ء) امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری مقامات پر بمباری کے بعد اسرائیل اور ایران جنگ میں تیزی سے اضافہ ہوا اور چین نے اس اقدام کو واشنگٹن کی عالمی ساکھ کے لیے ایک دھچکا قرار دیا۔

ٹرمپ نے جنگ بندی سے پہلے ایران کے جوہری پروگرام کے اہم مقامات پر امریکی حملے کیے، جس کے جواب میں، تہران نے قطر میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔

تاہم چین نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

بیجنگ کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے ایران پر امریکی حملے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے اساسی معاہدے کے تحت اپنے دفاع کے لیے یا پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر ممالک کے درمیان طاقت کے استعمال پر پابندی ہے۔

(جاری ہے)

گو جیاکون نے کہا کہ بیجنگ "مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔"

امریکہ سے تجارتی کشیدگی کے باعث چینی برآمدات متاثر

اس سے قبل اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کانگ کی جانب سے بھی اسی طرح کا بیان جاری کیا گیا تھا، جن کا کہنا تھا کہ بحیثیت ایک ملک اور کسی بھی بین الاقوامی مذاکرات میں شریک ہونے کی حیثیت سے امریکہ کی ساکھ کو "نقصان" پہنچا ہے۔

بیجنگ کے لیے داؤ پر کیا ہے؟

چین کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں استحکام کا مطالبہ ان اقتصادی خدشات کے درمیان آیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے، جس سے تیل کی قیمتیں غیر مستحکم ہو جائیں گی۔

ٹرمپ اور شی میں فون کال کے بعد تجارتی مذاکرات آگے بڑھانے پر اتفاق

آبنائے ہرمز عمان اور ایران کے درمیان ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے، جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور تیل کی نقل و حمل کے لیے ایک اہم گیٹ وے ہے۔

واشنگٹن نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کو اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کرنے سے باز رکھے۔

سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے ماہر سیاسیات جا ایان چونگ کا کہنا ہے کہ "تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ یقیناً (چین کی) معیشت پر دباؤ ڈالیں گے۔ اس سے "افراط زر کے مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "بیجنگ کے پاس یقیناً اس بات کو یقینی بنانے کی وجہ ہے کہ کشیدگی قابو سے باہر نہ ہو۔

لیکن آیا وہ ایران کو مکمل طور پر روک سکتا ہے یا نہیں یہ ایک الگ کہانی ہے۔"

شنگریلا ڈائیلاگ کے بعد امریکہ اور چین کس طرف جا رہے ہیں؟

چین ایران کا کلیدی اقتصادی حمایتی ہے، خاص طور پر مغربی پابندیوں اور تہران کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کے درمیان، جو اس کے جوہری پروگرام اور انسانی حقوق کے ریکارڈ کی وجہ سے ہیں۔

ایران چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں ایک اہم شراکت دار ہے۔

یہ ایک بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ ہے، جس کا مقصد چینی تجارت اور درجنوں ممالک میں اثر و رسوخ کو مربوط کرنا ہے۔

اٹلانٹک کونسل کے گلوبل چائنا ہب کے ایک رکن وین ٹی سنگ کا کہنا ہے کہ "ایک کمزور ایران، جو کہ شاید فوجی طور پر روایتی جنگ یا امریکی فوجی مداخلت کے نتیجے میں خانہ جنگی سے قریب تر ہے، تہران کو مشرق وسطیٰ میں چین کی رسائی کے لیے بہت ہی کم موثر پارٹنر بنا دے گا۔

"

چین نے ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی ادارہ قائم کر دیا

چین کے لیے سفارتی سرمایہ حاصل کرنے کا موقع

سنگ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی فوجی حملے کے تناظر میں چین کو مزید سفارتی خیر سگالی حاصل کرنے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا، "جب تک امریکہ کی جانب سے مستقبل میں مزید فوجی حملوں کا امکان ختم نہیں ہوتا، یہ سفارتی اثر برقرار رہے گا۔

""

چین نے طویل عرصے سے امریکہ کو عدم استحکام پیدا کرنے والی قوت کے طور پر، جبکہ خود کو امن اور استحکام کے لیے ایک ذمہ دار وکیل کے طور پر پیش کیا ہے۔

ٹرمپ کی ’گولڈن ڈوم‘ میزائل شیلڈ کیا، اس پر تنقید کیوں؟

چونگ کا کہنا ہے کہ (چین) کے پاس، "اب امریکہ کے بارے میں یہ بات کرنے کی زیادہ صلاحیت ہو گی کہ وہ ایک ممکنہ خطرہ ہے، وہ اس بیانیے کو گلوبل ساؤتھ میں آگے بڑھانے میں خاص طور پر سرگرم بھی رہا ہے۔

"

سن 2023 میں، چین نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان سات سال کے منقطع تعلقات کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے کے لیے ایک تاریخی معاہدے کی ثالثی کی تھی۔

لیکن موجودہ بحران کے دوران بیجنگ کی تہران کی پشت پناہی زیادہ تر بیان بازی پر مبنی رہی ہے، جس میں اس کے ثالثی کا کردار اداکرنے کے کوئی اشارے نہیں ملے۔

چونگ نے کہا، "بیجنگ بااثر ہے، لیکن جس طرح امریکہ اسرائیل کو کنٹرول نہیں کر سکتا، اسی طرح بیجنگ (ایران کو روک نہیں سکتا)"۔

اگر واشنگٹن ایشیا سے توجہ ہٹاتا ہے تو بیجنگ کو فائدہ ہو گا

ادھر امریکہ ہند-بحرالکاہل پر کم توجہ کے ساتھ ہی وسائل بھی کم صرف کر رہا ہے، چین ممکنہ طور پر ایشیا میں چین کی بڑھتی ہوئی اپنی فوجی موجودگی پر بین الاقوامی دباؤ کو دور کر سکتا ہے۔

ہنوئی میں امریکی سفارت خانے نے کہا کہ اس ماہ کے اوائل میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جو اصل میں ویتنام کی ایک بندرگاہ پر پہنچنے والا تھا، اسے ایک "ہنگامی آپریشنل ضرورت" کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کیا گیا۔

چونگ نے کہا کہ طیارہ بردار جہاز کے اس دورے سے ایشیا میں سلامتی اور استحکام کے لیے امریکی عزم کو ظاہر کرنا تھا۔

امریکہ اور چین دو طرفہ محصولات کی نوے روزہ معطلی پر متفق

چونگ نے تائیوان کی طرف چین کے نقطہ نظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "اگر مشرق وسطیٰ کی طرف امریکی توجہ طویل عرصے تک برقرار رہی تو، بیجنگ (اپنی حکمت عملی) کا دوبارہ تخمینہ لگا سکتا ہے۔

"

تائیوان ایک خود مختار جزیرہ ہے، جسے چین اپنا علاقہ مانتا ہے اور بیجنگ نے اس کے "دوبارہ اتحاد" کے حصول کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔

چونگ نے کہا کہ امریکہ اب مشرق وسطیٰ میں گہرائی سے الجھا ہوا ہے، اس لیے جاپان سمیت جنوبی کوریا، فلپائن اور آسٹریلیا جیسے اس کے علاقائی اتحادیوں کو "خود ہی بہت کچھ کرنا پڑے گا اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سخت محنت کرنا پڑے گی۔"

اس مرحلے پر یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایران پر امریکی حملہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے اور اس کے بعد واشنگٹن ایشیا پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے، یا پھر یہ قدم مشرق وسطیٰ کو ترجیح دینے کی جانب ایک وسیع محور کا اشارہ ہے۔

ص ز/ ج ا (یوچین لی تائی پے سے)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بین الاقوامی اقوام متحدہ کے لیے ایک کی جانب سے کے درمیان پر امریکی نے کہا کہ ایران کے چونگ نے سکتا ہے کر سکتا کا کہنا میں چین اور اس چین کی چین کے کے بعد چین نے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران