سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ کی ایران کیخلاف ہرزہ سرائی
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
سیکورٹی کونسل کے اجلاس سے اپنے ایک خطاب میں ڈوروتھی شی کا کہنا تھا کہ تہران، یمن میں حوثیوں (انصار اللہ) اور لبنان میں "حزب اللہ" کو ہتھیار فراہم کرتا رہا ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی جوہری مذاکرات اور قرارداد 2231 کے بارے میں سلامتی کونسل کا آخری اجلاس جاری ہے، جہاں اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ "ڈوروتھی شی" نے ایک بار پھر تہران کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کے دعووں اور مبالغہ آرائیوں کو دُہرایا۔ انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا نہایت ڈھٹائی سے دفاع کیا۔ ڈوروتھی شی نے امریکہ کے مقامی وقت کے مطابق، منگل کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں دعویٰ کیا کہ آج جب ہم قرارداد 2231 پر عملدرآمد کے حوالے سے سیکرٹری جنرل کی آخری رپورٹ کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں تو اب بھی ایران کھلم کھلا اقوام متحدہ کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تہران، یمن میں حوثیوں (انصار اللہ) اور لبنان میں "حزب اللہ" کو ہتھیار فراہم کرتا رہا ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے قرارداد 2231 کے نفاذ سے ہی اس کی شقوں کی رعایت نہیں کی۔
جس کی واضح مثال یوکرین کے خلاف حملوں میں استعمال ہونے والے وہ ڈرونز شامل ہیں جو 2022ء میں ایران نے روس کو فراہم کیے تھے۔ امریکی ڈپلومیٹ نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران پر الزام لگایا کہ تہران نے جوہری پروگرام کے عدم پھیلاؤ کے وعدوں پر پابندی نہ کرنے کی وجہ سے تنازعات کو برسوں سے طول دیا اور پورے مشرق وسطیٰ و اس سے باہر عدم استحکام کو پھیلایا۔ ڈوروتھی شی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت، آئی اے ای اے کی تازہ ترین رپورٹ، اس بات کی واضح تصدیق کرتی ہے کہ ایران بغیر کسی قابل اعتبار غیر عسکری جواز کے اپنی جوہری سرگرمیوں کو تیز کرتا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 12 جون کو IAEA کے بورڈ آف گورنرز نے ایران کو جوہری تحفظات کی متعدد خلاف ورزیوں کی وجہ سے اپنے وعدوں کا پابند نہیں سمجھا اور افسوس کی بات ہے کہ بورڈ کے کچھ اراکین نے اسے نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل اقوام متحدہ رہا ہے
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔