انگلینڈ کے بین ڈکٹ نے بھارت کے خلاف چوتھی اننگز میں سینچری بنا کر نئی تاریخ رقم کردی
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
انگلینڈ کے بلے باز بین ڈکٹ نے منگل کو ہیڈنگلے میں پہلے ٹیسٹ میں بھارت کے خلاف دوسری اننگز میں سینچری اسکور کرکے نئی تاریخ رقم کردی۔
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ: بھارت نے 5 سینچریاں بنانے کے باوجود شکست کا نیا ریکارڈ اپنے نام کرلیا
بائیں ہاتھ کے اوپننگ بیٹر نے انگلینڈ کی پہلی اننگز کے دوران 62 رنز بنائے جبکہ دوسری اننگز میں شاندار میچ وننگ سینچری بنا کر اپنی ٹیم کو 371 رنز کا ہدف عبور کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بین ڈکٹ نے 21 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 149 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو کھیل میں اہم پوزیشن پر پہنچانے میں مدد کی۔ واضح رہے کہ یہ کسی بھی بیٹسمین کا بھارت کے خلاف کامیاب چوتھی اننگز میں بنایا گیا سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔
چوتھی اننگز میں سینچری کے ساتھ ڈکٹ 15 سالوں میں چوتھی اننگز میں سینچری بنانے والے پہلے انگلینڈ کے اوپنر بن گئے۔
مزید پڑھیے: انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ، بھارتی بلے بازوں نے کون سے نئے ریکارڈز اپنے نام کرلیے؟
یہ کارنامہ انجام دینے والے پچھلے انگلینڈ کے اوپنر و سابق کپتان سر ایلسٹر کک تھے جنہوں نے 2010 میں بنگلہ دیش کے خلاف چوتھی اننگز میں سینچری بنائی تھی۔
بین ڈکٹ نے ہیڈنگلے میں لگاتار نصف سنچریاں بنانے میں کک کا ریکارڈ برابر کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستانی نژاد اسپنر بھارت کیخلاف پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کی نمائندگی سے کیوں محروم ؟
مزید برآں بین ڈکٹ نے زیک کرولی کے ساتھ 188 رنز کی اوپننگ شراکت داری بھی کی جو سنہ 2001 کے بعد سے ان کی ٹیم کے لیے سب سے زیادہ اور بھارت کے خلاف چوتھی اننگز میں سب سے زیادہ اوپننگ اسٹینڈ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت انگلینڈ ٹیسٹ میچ بین ڈکٹ بین ڈٖکٹ کا نیا ریکارڈ چوتھی اننگز میں سینچری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت انگلینڈ ٹیسٹ میچ بین ڈکٹ بین ڈ کٹ کا نیا ریکارڈ چوتھی اننگز میں سینچری چوتھی اننگز میں سینچری بھارت کے خلاف انگلینڈ کے بین ڈکٹ نے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔