بھارت کے خلاف تاریخی فتح اور آزادی کا جشن
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
ملک بھر میں آج بھارت کے خلاف تاریخی فتح اور آزادی کا جشن منایا جارہا ہے، ملک کا ہر شہر ہر گلی، محلہ سبز ہلالی پرچم کے رنگوں میں رنگ گیا۔
12 بجتے ہی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔
جناح اسپورٹس کمپلیکس میں یومِ آزادی اورمعرکہ حق کی فتح کی مرکزی تقریب ہوئی، جس میں صدر مملکت، وزیرِاعظم ، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی کابینہ ارکان،قومی اسمبلی اور سینیٹ ارکان سمیت دوست ممالک کے سفراء، اور بڑی تعداد میں شہری بھی شریک تھے۔
گورنر ہاؤس کراچی میں جشن آزادی معرکہ حق کے سلسلے میں اونٹوں کی ریلی کا انعقاد کیا گیا اونٹوں پر پاکستانی پرچم لگایا ہوا تھا۔
تقریب میں تینوں مسلح افواج پر مشتمل میوزک بینڈ کا شاندار مارچ پاسٹ کیا جبکہ پاک آرمی، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے چاق و چوبند دستوں سمیت پنجاب رینجرز، ایف سی خیبرپختونخوا کے دستوں نے بھی مارچ پاسٹ کیا۔
یومِ آزادی اور معرکہ حق کی فتح کی تقریب میں اسپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے بھی مارچ پاسٹ کا مظاہرہ کیا۔
تقریب میں ترکیہ اور آذربائیجان کی مسلح افواج کے دستوں نے بھی مارچ پاسٹ کیا۔
بھارت کے خلاف تاریخی فتح اور آزادی کا جشن پوری قوم اس وقت دہری خوشی منا رہی ہے، ملک کا ہر شہر، ہر گلی، محلہ سبز ہلالی پرچم کے رنگوں میں رنگ گیا۔
وزیراعظم کی سب کو مل کرکام کرنے کی پیشکشوزیراعظم شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی خاطر سب کو مل کر کام کرنے کی پیش کش کردی۔
یومِ آزادی اور معرکہ حق فتح کی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ آج کے اس عظیم دن پر وہ تمام جماعتوں کو میثاقِ پاکستان کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق نے ثابت کیا کہ ہم اس آزادی کی حفاظت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں سب کو احتجاج کا حق ہے، جلاؤ گھیراؤ کا نہیں، سیاست کا حق ہے بغاوت کا نہیں، تنقید کا حق ہے توہین کا نہیں، ہمارے پاس عظیم ماضی ہے، اب روشن مستقبل کی طرف بڑھنا ہے۔
وزیراعظم نے معرکہ حق ماڈل کی نقاب کشائی بھی کی۔
قومی اسمبلی میں یوم آزادی اور معرکہ حق پر متفقہ قرارداد منظور کی گئی، لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا، اپنی سالمیت اور خودمختاری کی ہر قیمت پر حفاظت کا عزم دہرایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔