وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر جشن آزادی میوزک کنسرٹ کا کامیاب انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
الحمرا کلچرل کمپلیکس میں جشن آزادی اور معرکہ حق کی مناسبت سے وزارت اطلاعات و ثقافت کی جانب سے میوزک کنسرٹ کا اہتمام کیا گیا۔
جشن آزادی میوزک کنسرٹ میں 5 ہزار سے زائد شہریوں نے شرکت اور کنسرٹ کی ابتدا میں میوزیشنز نے لائیو قومی ترانہ بچایا۔
جشن آزادی اور معرکہ حق میوزک کنسرٹ میں پاکستان کے معروف اور نامور گلوکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملی نغمے گا کر شہریوں سے خوب داد وصول کی۔
میوزک کنسرٹ میں فیملیز، لڑکے اور لڑکیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کی شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا
میوزک کنسرٹ میں شائے گل، بلال سعید اور سجاد علی نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میوزک کنسرٹ میں
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔