Express News:
2026-06-03@00:44:22 GMT

پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے اتحاد کا مستقبل

اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT

پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت میں طے شدہ پاور شیئرنگ فارمولے پر عمل کا مطالبہ کیا ہے اور ڈیڑھ سال میں دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں مگر لگتا ہے کہ ن لیگ پنجاب حکومت میں پیپلز پارٹی کو شامل کرنے پر راضی نہیں ہو رہی جب کہ وہ وفاقی حکومت میں تو پیپلز پارٹی کو نمایندگی دینے پر تیار ہے اور دونوں پارٹیاں بلوچستان حکومت میں شامل ہیں اور دونوں نے بلوچستان میں جے یو آئی کو نظرانداز کرکے مخلوط حکومت بنائی تھی جب کہ جے یو آئی کے پاس بلوچستان میں کے پی سے زیادہ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی بھی ہیں۔

سندھ میں مسلم لیگ (ن) کے پاس قومی اسمبلی تو کیا ایک رکن سندھ اسمبلی بھی نہیں ہے اور سندھ میں پی پی کو واضح اکثریت اسی طرح حاصل ہے، جیسی اکثریت (ن) لیگ کو پنجاب اسمبلی میں حاصل ہے اور پنجاب میں پی ٹی آئی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کو پنجاب کے گورنر کا عہدہ ملا ہوا ہے اور چیئرمین سینیٹ کا عہدہ پی پی کے سابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کے پاس ہے اور ملتان ڈویژن میں گیلانی خاندان نے متعدد نشستیں بھی حاصل کر رکھی ہیں اور جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کو نمایندگی حاصل ہے اور وہ پنجاب میں (ن) لیگ کی حلیف بھی ہے اس لیے پنجاب حکومت میں شمولیت چاہتی ہے جس کے لیے دونوں پارٹیوں کے درمیان متعدد اجلاس ہو چکے ہیں مگر ن لیگ کو نہ جانے کون سے تحفظات ہیں کہ وہ راضی نہیں ہو رہی۔

پیپلز پارٹی کو پنجاب میں اپنے وزیروں کی ضرورت ہے تاکہ وہ محکمے لے کر پی پی کارکنوں کو نواز سکے۔ گورنر پنجاب کا عہدہ آئینی ہے جب کہ وزیروں کو محکمے تو ملتے ہیں مگر وہ وہاں من مانیاں نہیں کر سکتے کیونکہ پنجاب حکومت اور اس کی انتظامی ٹیم کی ہر محکمے پر نظر ہے اورن لیگ ایک واضح پالیسی کے تحت صوبہ چلا رہی ہے جب کہ پیپلز پارٹی کے ارکان اگر حکومت میں شامل ہوتے ہیں تو انھیں پنجاب حکومت کی پالیسی کسی صورت قبول نہیں ہوگی جس سے دونوں پارٹیوں میں اختلافات بڑھ سکتے ہیں۔دونوں پارٹیوں میں اختلافات ختم کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے ارکان کو مجبوراً مفاہمت کی پالیسی اپنانا ہو گی۔

 پی پی کے ارکان اگر وزیر بنتے ہیں تو انھیں اپنی پارٹی کو پروموٹ کرنا ہوگا تاکہ پنجاب میں پی پی کی مقبولیت بڑھے جو ن لیگ کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا کیونکہ انھوں نے اپنے طریقے سے حکومت چلانے کے اصول متعین کر رکھے ہیں جن پر عمل کرنا پی پی وزیروں کے لیے بہت ہی مشکل ہوگا۔پنجاب حکومت پیپلز پارٹی کو زیادہ اہمیت کیوں دے گی ،ایسا کرنے سے اس کی سیاسی حیثیت اور ساکھ متاثر ہو گی۔

پی پی کو کابینہ میں شمولیت دونوں پارٹیوں کے درمیان دوریاں مزید بڑھا سکتی ہے اس لیے پنجاب میں پاور شیئرنگ فارمولے پر عمل نہیں ہو پا رہا اور پی پی اپنے مطالبے پر جلد عمل چاہتی ہے۔ (ن) لیگ کو پنجاب میں پی ٹی آئی کی طرح پیپلز پارٹی سے بھی خطرہ ہے اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) سے زیادہ ایک خاندان کی حکومت نظر آتی ہے اور ارکان اسمبلی کو بھی (ن) لیگی حکومت سے شکایات ہو سکتی ہیں مگر وہ پنجاب حکومت کی بھی مخالفت نہیں کر سکتی۔ دونوں پارٹیوں کا اتحاد جب بھی ختم ہوگا دونوں میں اختلافات بڑھیں گے جس کا ثبوت پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو پی ڈی ایم حکومت کے ختم ہوتے ہی (ن) لیگ کی مخالفت کرتے ہوئے دے چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کو دونوں پارٹیوں پنجاب میں پی پنجاب حکومت حکومت میں کو پنجاب نہیں ہو ہیں مگر کے لیے ہے اور

پڑھیں:

علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی

ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی  گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور